WE News:
2026-06-03@06:58:10 GMT

خوبانی کا سیزن جوبن پر، بلوچستان کے باغات مہک اٹھے

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں خوبانی (زردآلو) کا سیزن اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

جون کے آغاز کے ساتھ ہی باغات میں مزدوروں کی چہل پہل اور پھلوں سے لدے درخت مقامی معیشت کی ایک عارضی لیکن اہم سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: ’خوبانی اور چیری کے درختوں پر پھول کھلتا ہے مگر پھل کیوں نہیں ملتا؟‘

روزانہ کی بنیاد پر خوبانی کے ہزاروں کارٹن پیک کیے جا رہے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں بھیجے جاتے ہیں۔

گزشتہ 6 سال سے سیزنل باغبانی کے شعبے سے وابستہ مقامی مزدور عبدالنبی بتاتے ہیں کہ خوبانی کا موسم تقریباً ایک مہینے پر مشتمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روزانہ تقریباً 100 کارٹن بھرتے ہیں اور ہم میں سے ایک مزدور صرف پیکنگ کرتا ہے جبکہ 3 درختوں سے پھل توڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری دیہاڑی ایک ہزار روپے ہے‘۔

مزید پڑھیے: جنوبی وزیرستان کے خوش ذائقہ پھل موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں، معیشت متاثر

ضلع قلعہ عبداللہ کے ایک باغبان عبیداللہ 13 ایکڑ رقبے پر خوبانی کی کاشت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خوبانی کی 4 اقسام اگاتے ہیں جن میں سردہی، نرئی، کیسی اور ایک مقامی قسم شامل ہے۔

خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سال بھر آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں یہ سیزن مزدوروں کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: قدرتی اجزا سے تیار خوبانی کا شربت گرمی کا بہترین توڑ

صوبے کے 13 اضلاع میں خوبانی کی کاشت کی جاتی ہے جس کا کل زیر کاشت رقبہ 13 ہزار ایکڑ سے زائد ہے اور سالانہ پیداوار ایک لاکھ 75 ہزار ٹن تک پہنچتی ہے۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بلوچستان کے باغات خوبانی زرد آلو قلعہ عبداللہ کے باغات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان کے باغات زرد ا لو قلعہ عبداللہ کے باغات

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے