WE News:
2026-07-24@06:40:32 GMT

خوبانی کا سیزن جوبن پر، بلوچستان کے باغات مہک اٹھے

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں خوبانی (زردآلو) کا سیزن اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

جون کے آغاز کے ساتھ ہی باغات میں مزدوروں کی چہل پہل اور پھلوں سے لدے درخت مقامی معیشت کی ایک عارضی لیکن اہم سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: ’خوبانی اور چیری کے درختوں پر پھول کھلتا ہے مگر پھل کیوں نہیں ملتا؟‘

روزانہ کی بنیاد پر خوبانی کے ہزاروں کارٹن پیک کیے جا رہے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں بھیجے جاتے ہیں۔

گزشتہ 6 سال سے سیزنل باغبانی کے شعبے سے وابستہ مقامی مزدور عبدالنبی بتاتے ہیں کہ خوبانی کا موسم تقریباً ایک مہینے پر مشتمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روزانہ تقریباً 100 کارٹن بھرتے ہیں اور ہم میں سے ایک مزدور صرف پیکنگ کرتا ہے جبکہ 3 درختوں سے پھل توڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری دیہاڑی ایک ہزار روپے ہے‘۔

مزید پڑھیے: جنوبی وزیرستان کے خوش ذائقہ پھل موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں، معیشت متاثر

ضلع قلعہ عبداللہ کے ایک باغبان عبیداللہ 13 ایکڑ رقبے پر خوبانی کی کاشت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خوبانی کی 4 اقسام اگاتے ہیں جن میں سردہی، نرئی، کیسی اور ایک مقامی قسم شامل ہے۔

خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سال بھر آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں یہ سیزن مزدوروں کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: قدرتی اجزا سے تیار خوبانی کا شربت گرمی کا بہترین توڑ

صوبے کے 13 اضلاع میں خوبانی کی کاشت کی جاتی ہے جس کا کل زیر کاشت رقبہ 13 ہزار ایکڑ سے زائد ہے اور سالانہ پیداوار ایک لاکھ 75 ہزار ٹن تک پہنچتی ہے۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بلوچستان کے باغات خوبانی زرد آلو قلعہ عبداللہ کے باغات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان کے باغات زرد ا لو قلعہ عبداللہ کے باغات

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ