امریکا اور چین سمیت کئی ممالک کی درآمدات پر ٹیکس اور ڈیوٹیز نہ بڑھانے کا فیصلہ، وجوہات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، جاپان اور چین سے درآمدات پر ٹیکس اور ڈیوٹیز نہ بڑھانےکی ہدایات کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ممالک سے درآمدات پر ڈیوٹی نہ بڑھانے کا فیصلہ مختلف وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے امریکا سے ٹیرف مذاکرات کے دوران ٹیکس اور ڈیوٹیز میں تبدیلی کی مخالفت کی تھی جبکہ امریکا نے پاکستان کے درآمدی ٹیکسز کی بنیاد پر پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ایف بی آر کی ٹیکس دہندگان کیخلاف ایف آئی آرز، گرفتاریاں اور ٹرائلز غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا بڑا، تفصیلی فیصلہ جاری
دوسری طرف چین سے درآمدات اور آن لائن خریداری پر ٹیکسوں کو کم رکھا گیا ہے کیوں کہ چین سے آنے والی اشیا مقامی کاروبار اور روزگار میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ جرمنی متبادل ذرائع توانائی میں پاکستان کو سب سےزیادہ امداد دیتا ہے اس لیے جرمنی سے درآمدات پر بھی ٹیکس نہیں بڑھایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ یورپی یونین سے باہر پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات کا مرکز ہے، برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکلنے کے بعد نئی منڈیوں کی تلاش ہے اس لیے برطانیہ سے درآمدات پر ٹیکس اور ڈیوٹیز نہ بڑھانےکی ہدایات کردی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
FBR Tax امریکا ایف بی آر تجارت ٹیکس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایف بی ا ر ٹیکس ٹیکس اور ڈیوٹیز سے درآمدات پر پر ٹیکس
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔