پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کامیاب؛آئندہ ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق آئندہ ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق طے پا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لُٹنِک کے مابین باہمی ٹیرفس (reciprocal tariffs) سے متعلق ورچوئل میٹنگ ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کے تحت اگلے ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق طے پایا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے مابین اس اجلاس کے دوران فریقین نے جاری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارتی مذاکرات کو آئندہ ہفتے تک خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
علاوہ ازیں تجارتی معاہدے کے بعد باہمی مفادات پر مبنی ایک جامع شراکت داری تشکیل دی جانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ شراکت داری اسٹریٹیجک اور سرمایہ کاری کے شعبوں سمیت باہمی دلچسپی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے گی۔ اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے لیے یکساں فوائد کے حصول کے لیے گفتگو کا محور تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی روابط کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے پر تھا
اس ضمن میں تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کیے جانے کا امکان ہے، اس سلسلے میں دونوں ممالک نے جلد از جلد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اعتماد کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تجارتی مذاکرات آئندہ ہفتے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم