پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق آئندہ ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق طے پا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق  وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لُٹنِک کے مابین باہمی ٹیرفس (reciprocal tariffs)  سے متعلق ورچوئل میٹنگ ہوئی، جس میں  دونوں  ممالک کے مابین تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کے تحت اگلے ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق طے پایا ہے۔

پاکستان اور امریکا کے مابین اس اجلاس کے دوران فریقین نے جاری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارتی مذاکرات کو آئندہ ہفتے تک خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

علاوہ ازیں تجارتی معاہدے کے بعد باہمی مفادات پر مبنی ایک جامع شراکت داری تشکیل دی جانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ شراکت داری اسٹریٹیجک اور سرمایہ کاری کے شعبوں سمیت باہمی دلچسپی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے گی۔  اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے لیے یکساں فوائد کے حصول کے لیے گفتگو کا محور تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی روابط کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے پر تھا

اس ضمن میں تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کیے جانے کا امکان ہے، اس سلسلے میں دونوں ممالک نے جلد از جلد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اعتماد کا اظہار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تجارتی مذاکرات آئندہ ہفتے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟