data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید)اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو ٹرمپ حساب کر لیں گے‘ پاکستان ٹرمپ کے ساتھ ہے، بہادری سے جنگ لڑنے پر اللہ نے ایران کو سرخرو کیا‘ نیتن یاہو مشرق وسطیٰ اور مودی جنوبی ایشیا کا امن تباہ کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کے مذموم منصوبے پر عملدرآمد کے لیے خطے میں جنگ چاہتے ہیں‘ فلسطینیوں کے قتل عام کو بھی روکا جائے۔ان خیالات کا اظہاروزیر دفاع خواجہ آصف، سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری اور صحافی اوریا مقبول جان نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’کیا ٹرمپ کی جنگ بندی کے اعلان پر اسرائیل عمل کر ے گا؟‘‘ خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ٹرمپ کی جنگ بندی کے خلاف کام کیا تو اس کو امریکی صدر کی جانب سے دوبارہ باتیں سنی پڑیں گی اور ٹرمپ جنہوں نے یہ جنگ بند کر ائی ہے وہ خود ہی اسرائیلی وزیر اعظم سے حساب کر لیں گے‘ ایران نے بہت بہادری سے جنگ لڑی ہے اور آخر کا ر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایران کو کامیابی ملی ہے‘ اسرائیل مشرق
وسطیٰ اور مودی جنوبی ایشیا کا امن تباہ کر نے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں گے‘ امریکا اور یورپ کو اس جانب توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے‘ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین میں ضرور امن قائم کر نے میں کامیاب ہو ں گے اور پاکستان ٹرمپ کے ساتھ ہے۔ اعزاز چودھری نے کہا کہ نیتن یاہوکی بڑی ترجیح یہ ہے کہ خطے میں جنگ کو جاری رکھیں جس کی وجہ سے گریٹر اسرائیل بنایا جاسکے‘ اسرائیل پورے خطے میں بدامنی کرکے مسلمانوں کو ختم کر نا چاہتا ہے‘ اسرائیلی ریاست بنانے کا مقصد یہی تھا کہ فلسطینیوں کے لیے زمین کو مزید تنگ کیا جائے‘ اسرائیل ایران کو سکون سے رہنے نہیں دے گا اور ایران پر پھر حملہ کر ے گا ‘ اس سلسلے میں ٹرمپ نے جس کوشش کو آغاز کیا ہے اس کا اصل مقصد یہی ہے کہ فلسطین میں جنگ بندی مستقل بنیادوں پر کی جائے‘ فلسطین کے مسئلے کے حل کے بغیر ایران اسرائیل جنگ بندی بے معنیٰ ہے‘ غزہ میں جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے اور اس کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے‘ غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینیوں کا قتل عام کو روکا جاسکے۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ اسرائیل ہمیشہ خطے میں جنگ چاہتا ہے اور اس کی کوشش اب بھی یہی ہو گی کہ ایران پر حملے جاری رکھے‘ ایران پر امریکا کے حالیہ فضائی اور بحری حملے ’انتہائی تشویشناک‘ اور ’خطرناک‘ تھے اور اس کی وجہ بھی اسرائیل ہے‘ اگر یہ جنگ جاری رہتی تو یہ تنازع بہت تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا تھا جس کے عام شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہو تے‘ ایران کے خلاف اسرائیلی حملے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تھے اور اس کو امریکی صدر نے اس جنگ کو روکا ہے۔اسی طرح امریکی صدر کو چاہیے کہ فلسطین کی جنگ کو بھی روکیں تاکہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکا جاسکے‘ پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب اور قطر کو اس سلسلے میں اپنالردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ‘ فلسطینیوں پر تاریخ کا بد ترین ظلم ہو رہا ہے اس کو روکنا ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنگ بندی کی کہ فلسطین ضرورت ہے کے لیے اور اس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم