ہوٹل کی انوکھی سروس پر پابندی، ریڈ پانڈا بستر پر نہیں آئے گا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
چائنا کے چونگ قِنگ کے قریب واقع لیہ لیڈو لیانگجیانگ ہالیڈے ہوٹل نے اپنے مہمانوں کے ’ریڈ پانڈا ویک‑اپ کال‘ سروس کو فوراً روک دیا ہے، کیونکہ جنگلی حیات کے حکام نے اسے غیر قانونی اور خطرناک قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہانگ کانگ میں پانڈا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش
ہوٹل 4 ریڈ پانڈا چڑیا گھر سے اُدھار لیتا تھا تاکہ صبح کے وقت ان جانوروں کو مہمانوں کے بیڈ پر بھیجا جائے۔ یہ سروس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد فوراً تحقیقات شروع کی گئیں۔
مقامی جنگلاتی بیورو نے قریبی رابطے کی پابندی کا حکم دیا اور بتایا کہ ایسے تجربات 2018 سے ممنوع ہیں۔
ہوٹل انتظامیہ نے کہا کہ پانڈوں کو ’زو‘ سے لایا گیا ہے، ویکسین دی گئی ہے، صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے، اور بچوں کے ساتھ والدین شامل ہوتے ہیں۔
تاہم ماہرین اور حکام نے اسے جانوروں کے حقوق اور حفاظت کے خلاف قرار دیا ہے۔
ریڈ پانڈا خطرناک بیماری پھیلانے یا مہمانوں کو کاٹنے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے ہوٹل نے جانوروں اور انسانوں کے لیے ممکنہ خطرات کی بنیاد پر اس سروس کو روک دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جانوروں کے حقوق چین خطرناک بیماری ریڈ پانڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جانوروں کے حقوق چین خطرناک بیماری ریڈ پانڈا ریڈ پانڈا دیا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔