کوٹ ادو، ایم ڈبلیو ایم کی 4رکنی ضلعی ورکنگ کمیٹی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سابقین، سینیئرز اور علمائے کرام کی مشاورت سے ضلع کوٹ ادو کے لیے چار رکنی ورکنگ کمیٹی کا اعلان کیا گیا۔ ورکنگ کمیٹی میں کاظم رضا جعفر، طاہر خورشید، مظہر اقبال اور سید مشتاق حسین شاہ شامل ہیں، اس موقع پر مولانا ملازم حسین گرمانی، مولانا صابر حسین جغلانی، ارسلان حسین گرمانی، دلشاد اکبر بخاری اور دیگر موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے صوبائی آرگنائزر مولانا قاضی نادر حسین علوی نے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ہمراہ ضلع کوٹ ادوکا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اراکین مولانا ثقلین نقوی، سید ندیم عباس کاظمی اور صوبائی ترجمان ثقلین نقوی تھے۔ سابقین، سینیئرز اور علمائے کرام کی مشاورت سے ضلع کوٹ ادو کے لیے چار رکنی ورکنگ کمیٹی کا اعلان کیا۔ ورکنگ کمیٹی میں کاظم رضا جعفر، طاہر خورشید، مظہر اقبال اور سید مشتاق حسین شاہ شامل ہیں، اس موقع پرمولانا ملازم حسین گرمانی، مولانا صابر حسین جغلانی، ارسلان حسین گرمانی، دلشاد اکبر بخاری اور دیگر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ورکنگ کمیٹی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔