سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنا چاہے تو تینوں جوہری تنصیبات کی ازسرِنو تعمیر کرنی ہوں گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ کا کہنا ہے کہ نئی انٹیلیجنس رپورٹ ٹرمپ کی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنا چاہے تو تینوں جوہری تنصیبات کی ازسرِنو تعمیر کرنی ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو نطنز، فردو اور اصفہان جوہری تنصیبات کی تعمیرِ نو میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ تُلسی گبارڈ کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈا میڈیا نے ہمیشہ کی طرح اپنا پرانا حربہ استعمال کیا ہے، پروپیگنڈا میڈیا نے خفیہ انٹیلیجنس رپورٹس کے صرف مخصوص حصے جاری کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پروپیگنڈا میڈیا کا مقصد صدر ٹرمپ کی فیصلہ کُن قیادت اور تاریخی مشن انجام دینے والے بہادر فوجیوں کو کمزور دکھانا تھا۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات ہے کہ ایران

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ