ایرانی جوہری تنصیبات تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں، تُلسی گبارڈ کا یوٹرن
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنا چاہے تو تینوں جوہری تنصیبات کی ازسرِنو تعمیر کرنی ہوں گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ کا کہنا ہے کہ نئی انٹیلیجنس رپورٹ ٹرمپ کی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنا چاہے تو تینوں جوہری تنصیبات کی ازسرِنو تعمیر کرنی ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو نطنز، فردو اور اصفہان جوہری تنصیبات کی تعمیرِ نو میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ تُلسی گبارڈ کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈا میڈیا نے ہمیشہ کی طرح اپنا پرانا حربہ استعمال کیا ہے، پروپیگنڈا میڈیا نے خفیہ انٹیلیجنس رپورٹس کے صرف مخصوص حصے جاری کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پروپیگنڈا میڈیا کا مقصد صدر ٹرمپ کی فیصلہ کُن قیادت اور تاریخی مشن انجام دینے والے بہادر فوجیوں کو کمزور دکھانا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات ہے کہ ایران
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔