تل ابیب میں ہونے والے نقصان کی ویڈیو امریکی صحافی نے شئیر کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
صحافیوں کو پہلی بار تل ابیب میں ایرانی حملے سے تباہ ہونے والے ایک علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی بمباری کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل کے معاشی حب تل ابیب پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں ہونے والا نقصان اب سامنے آرہا ہے۔ صحافیوں کو پہلی بار تل ابیب میں ایرانی حملے سے تباہ ہونے والے ایک علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اسی کے پیشِ نظر امریکی صحافی نِک رابرٹ سن نے یہ ویڈیو ریلیز کی جس میں اسرائیل میں ہونے والی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ اتوار 22 جون کی علی الصبح امریکا نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان تینوں جوہری سائٹس کو تباہ کردیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔ بعدازاں ایران نے اسرائیلی شہر تل ابیب پر حملے کیے جس کا اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 10 مقامات پر ایرانی میزائل حملوں سے نقصانات ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ منگل کی علی الصبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا جس کی تصدیق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نے بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تل ابیب
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔