قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر سے ان کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر سے بھی ان کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا۔

وفاقی کابینہ نے ترامیم کے ساتھ فنانس بل کی منظوری دے دی

اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ اور کابینہ کے ارکان کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزیرِ اعطم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بھی اُن کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا، اس کے علاوہ اراکینِ قومی اسمبلی سے بھی وزیرِ اعظم نے ملاقات کی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں بجٹ کی شق وار منظوری کا عمل جاری ہے، کاربن لیوی میں کٹوتی کی اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے ایوان میں گھاٹے کا بجٹ پیش کیا، کل جو گرانٹس منظور ہوئیں وہ منصفانہ نہیں۔

زرتاج گل نے کہا کہ بجٹ میں نوجوان، خواتین اور ماحولیاتی تبدیلی کو نظر انداز کیا گیا، جنوبی پنجاب کے سرائیکی وسیب کے لیے کوئی پیسہ نہیں رکھا گیا۔

عامر ڈوگر نے اسے آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا قومی اسمبلی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف