اسلام آباد:

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن بنا کر پاکستان کے ہر شہری تک اس کی رسائی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

انڈسٹری گول میز کانفرنس میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یہ کانفرنس مستقبل کی ڈیجیٹل پالیسیوں کی بنیاد رکھنے والی مشاورت ہے، انٹرنیٹ اب صرف سہولت نہیں بلکہ ایک لائف لائن اور قومی ترقی کا بنیادی جزو ہے۔

انہوں نےکہا کہ ایس سی او اور یو ایس ایف جیسے ادارے دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن بنا کر پاکستان کے ہر شہری تک رسائی یقینی بنائی جا سکتی ہے، ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل سوسائٹی اور ڈیجیٹل گورننس کے لیے ڈیجیٹل نیشن ایکٹ کی منظوری سنگ میل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے، وزیراعظم ہر ہفتے کیش لیس اکانومی پر ٹاسک فورس اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ڈیجیٹل ترقی کا خواب تب ہی پورا ہوگا جب ہر شہری کے پاس قابل اعتماد اور مستحکم انٹرنیٹ دستیاب ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ متحدہ حکمت عملی کے تحت انویسٹر میپنگ کے ساتھ اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے فیڈ بیک لوپس مکمل اور تیز رفتار طریقہ کار مؤثر ہونا چاہیے، عوامی آگاہی اور صلاحیتوں کی تعمیر پر بھی مکمل توجہ دینا ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انٹرنیٹ کی فراہمی وفاقی وزیر نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار