اسلام آباد:

محرم الحرام کے دوران ملک میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ مواد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

یہ ٹیم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی ہدایت پر ڈی جی این سی سی آئی اے وقارالدین سید کے حکم پر قائم کی گئی ہے۔

ایجنسی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ 18 رکنی ٹیم NCCIA ہیڈ کوارٹرز کے افسران پر مشتمل ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز خان کر رہے ہیں جبکہ ٹیم کے کنوینر ڈپٹی ڈائریکٹر اکرام مغل ہوں گے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ٹیم کا بنیادی مقصد محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن فورمز پر نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز مواد اور فرقہ وارانہ بیانیے کو روکنا ہے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

اس مقصد کے تحت ٹیم روزانہ کی بنیاد پر فیس بک، ٹویٹر (ایکس)، انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت تمام معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کرے گی۔

خصوصی ٹیم ڈارک ویب پر جاری ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں اور سائبر خطرات پر بھی نظر رکھے گی۔ اس سلسلے میں دھوکا دہی، غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد کی شناخت کے لیے واضح معیار طے کیے گئے ہیں تاکہ مانیٹرنگ کا عمل مؤثر اور قابل بھروسا ہو۔

این سی سی آئی اے نے بتایا کہ ٹیم اپنی روزمرہ کارکردگی، پیش رفت اور نتائج سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل ڈائریکٹر (آپریشنز) کو روزانہ کی بنیاد پر پیش کرے گی، جس کے ذریعے مجموعی صورتحال پر قابو پانے اور بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ اقدام محرم الحرام کے تقدس کو برقرار رکھنے اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی اشتعال انگیز یا نقصان دہ مہم کو بروقت روکا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محرم الحرام کے سوشل میڈیا کے لیے

پڑھیں:

ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔

بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت