پیٹ کمنز کو نامناسب اشارہ: ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی جیدن سیلز پر جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بارباڈوس میں کھیلے جانے والے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈین فاسٹ بولر جیدن سیلز کو غیر مہذب جشن منانے پر جرمانے اور ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز کو آؤٹ کرنے کے بعد جیدن سیلز نے جارحانہ انداز میں اُن کی طرف دیکھتے ہوئے ڈریسنگ روم کی جانب اشارہ کیا، جسے میچ آفیشلز نے نازیبا اور غیر کھیلوں سے متعلق رویہ قرار دیا۔ اس حرکت پر سیلز پر 15 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ ان کے ڈسپلن ریکارڈ میں ایک اور ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ ہو گیا ہے، یوں دو سالہ مدت میں ان کے پوائنٹس کی تعداد دو ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی شق 2.
واقعے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سیلز نے اپنے طرز عمل کو محض ایک جذباتی لمحہ قرار دیا اور کہا کہ اس اشارے کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں تھی۔ ان کے بقول، “پیٹ کمنز نے مجھے چند اچھے شاٹس مارے تھے، اس لیے میں نے محض مذاق میں اُنہیں ڈریسنگ روم کا راستہ دکھایا۔”
سیلز نے میچ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں 60 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت کینگروز کی ٹیم 180 رنز پر سمٹ گئی۔ جواب میں ویسٹ انڈیز کا آغاز مایوس کن رہا اور پہلے دن کا کھیل 57 رنز پر 4 کھلاڑی آؤٹ کے اسکور پر مکمل ہوا۔ دوسرے روز مہمان ٹیم 190 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
یہ مقابلہ تاریخی کینسنگٹن اوول بارباڈوس میں جاری ہے، جہاں ویسٹ انڈین ٹیم نے میچ آفیشلز کے چند فیصلوں، خصوصاً ٹی وی امپائر ایڈریان ہولڈ اسٹاک کی جانب سے کیے گئے بعض متنازعہ فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ان فیصلوں پر باضابطہ شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔