ہم نے ایران پر حملے کیلئے "سالہا سال" تیاری کی تھی، صیہونی اہلکار کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ایک اعلی سطحی غاصب صیہونی اہلکار نے اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حالیہ فوجی حملہ، برسوں سے جاری منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا کہ جسے مخصوص حالات کے "سازگار" ہونے پر انجام دیا گیا! اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق، غاصب صیہونی رژیم کے ایک اعلی سطحی سکیورٹی اہلکار نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس حملے کو ایران کے جوہری و میزائل پروگرام کے خلاف ایک "ضروری اقدام" قرار دیا ہے۔ صیہونی اہلکار نے دعوی کیا کہ ایران کے خلاف ہمارا آپریشن نہایت دقیق منصوبہ بندی اور فریبکاری کے اقدامات کے ساتھ شروع ہوا جس میں سب سے پہلے جوہری سائنسدانوں اور فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا اور پھر فضائی برتری حاصل کر کے ایرانی جوہری و میزائل تنصیبات پر بمباری کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اعلی سطحی سکیورٹی اہلکار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی "سالہا سال" پر محیط تھی اور جیسے ہی شام و حزب اللہ کی جانب سے خطرات میں کمی آئی، حملے کے لئے درکار "سازگار حالات" فراہم ہو گئے۔ اس اہلکار نے مزید کہا کہ درحقیقت شام و حزب اللہ کی جانب سے خطرے کی سطح میں کمی نے ہی ایران کے خلاف بڑے آپریشن کے لئے زمین ہموار کی تھی۔
مذکورہ ذرائع نے لبنان میں بھی مخصوص اہداف پر اسرائیلی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب لبنانی فوج کسی ہدف سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتی تو ہم خود کارروائی کرتے ہیں! اسی طرح، شامی سرحد پر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اس اہلکار نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی مسلح گروہ کو شام میں اپنی سرحدوں کے قریب آنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں