سوات واقعے پر گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
—فائل فوٹوز
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کا ذمے دار وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو قرار دیتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔
اپنے بیان میں گورنر خیبر پختون خوا نے کہا ہے کہ واقعے کی وزیرِ اعلیٰ پر براہِ راست ذمے داری ہے، ایمرجنسی میں کوئی ایکشن نہیں لیا، وزیرِ اعلیٰ کو اس نااہلی پر مستعفی ہونا چاہیے۔
خطرناک مقامات پر سیلفی لینا، تصاویر اور ویڈیو بنانے کا شوق ہر سال سیاحتی موسم میں کئی قیمتی جانیں نگل لیتا ہے۔
گورنر خیبر پختون خوا نے کہا ہے کہ دریائے سوات کے واقعے پر دل خون کے آنسو روتا ہے، سانحۂ سوات پر صوبائی حکومت کی بے حسی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جانی نقصان پر صرف اسسٹنٹ کمشنر اور ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنانا زیادتی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ محکمۂ سیاحت سوات واقعے کا ذمے دار ہے جس کا اختیار وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہے، دریائے سوات میں چارپائیاں بچھانے والا ہوٹل، انتظامیہ کا محکمۂ سیاحت ذمے دار ہے۔
گورنر کے پی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میں دریائے سوات میں انسان تڑپتے اور بہتے رہے، صوبائی حکومت نے جنوبی اضلاع دہشت گردوں کے حوالے کر دیے ہیں، صوبے میں کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دریائے سوات نے کہا
پڑھیں:
سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
(ویب ڈیسک)چترال، سوات، دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ کے نواحی علاقوں میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں سے نکل آئے۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کے شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی جس کی زیر زمین گہرائی 191 کلو میٹر تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کوہ ہندوکش پہاڑی سلسلہ تھا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل