علی امین گنڈاپور بمقابلہ علیمہ خان: آخر اختلافات کی وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گزشتہ کچھ دنوں سے پارٹی اور ورکرز کی جانب سے سخت دباؤ میں ہیں جس کی وجہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کا وہ میڈیا بیان ہے جس میں انہوں نے بجٹ پاس کرنے کو ’مائنس عمران خان‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مائنس عمران کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان پر واضح کردیا
علیمہ خان کے بیان کے بعد پارٹی رہنماؤں میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ تیمور سلیم جھگڑا سمیت دیگر اہم قیادت نے بجٹ پاس کرنے کی مخالفت کی۔ علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ عمران خان نے سرپلس بجٹ پر تحفظات کا اظہار کر کے بغیر مشاورت پاس کرنے پر بجٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ علیمہ خان اور علی امین گنڈاپور کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ اس سے پہلے بھی علیمہ خان، علی امین سمیت پارٹی رہنماؤں پر کھل کر تنقید کر چکی ہیں۔
’علیمہ خان غیر سیاسی خاتون ہیں، معاملات نہیں سمجھتیں‘سینیئر صحافی و تجزیہ کار اور ہم نیوز پشاور کے بیورو چیف طارق وحید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہنوں کے مابین اختلاف اور بیان بازی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔
طارق وحید کے مطابق علیمہ خان غیر سیاسی خاتون ہیں اور وہ معاملات کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھ سکتیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ان کے نام کا فائدہ پارٹی کے لوگ لے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ مفادات کا بھی ایشو ہوتا ہے، صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور فائدہ لینا کون نہیں چاہے گا۔
’کبھی کبھار فائدہ نہ پہنچے تو بھی اختلافات پیدا ہوتے ہیں‘طارق وحید نے سیاسی معاملات میں علی امین گنڈاپور کو بہترین فیصلہ ساز قرار دیا اور بتایا کہ سیاسی سوجھ بوجھ نہ ہونے کے باعث ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا بشریٰ بی بی کے بھی علی امین سے اختلافات تھے اور اسلام آباد مارچ میں ان کی ضد کی وجہ سے حالات خراب ہوئے جو علی امین نہیں چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے تو عمران خان کی بہنوں کو لگ رہا ہے سب غلط ہو رہا ہے، کیونکہ وہ معاملات کو ایک خاتون کی نظر سے دیکھتی ہیں، سیاسی نظر سے نہیں۔
انہوں نے کہا علیمہ خان غیر سیاسی خاتون ہیں، پارٹی میں ان کا کوئی عہدہ بھی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ورکرز ان کی بات پر یقین کرتے ہیں اور علی امین سے زیادہ ان کی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علیمہ خان کے بیان کے بعد علی امین گنڈاپور سخت مشکل میں ہیں، پارٹی میں ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مفادات اور اختیارات کی جنگپی ٹی آئی کے کچھ اندرونی لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی بہنیں بھی صوبائی حکومت سے تعاون چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے بھائی کے نام پر بنی حکومت پر ان کا بھی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کسی کو بھی نہیں بخشتی ہیں اور اگر کسی کی بات ناگوار گزرے تو اسی وقت سنا دیتی ہیں۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی خانہ جنگی کا شکار، علیمہ خان اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے
ایک پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی میں عہدہ نہ ہونے کے باوجود معاملات میں بولتی ہیں اور مرکزی قائدین کو خوب سناتی ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا علیمہ خان مستقبل میں پارٹی سیاست میں شامل ہو رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ غیر اعلانیہ طور پر تو وہ اب بھی پارٹی میں شامل ہیں۔ ہر معاملے پر بولتی ہیں، مرکزی رہنماؤں کو ہدایات دیتی ہیں اور پوچھ گچھ کرتی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر خان کی اجازت ہو تو وہ آج ہی سیاست شروع کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور علیمہ خان کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور علیمہ خان علی امین گنڈاپور کو اپنی سیاست میں رکاوٹ سمجھتی ہوں گی جو ان کے اختلافات کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی بھی سیاست میں سرگرم تھیں جس کی وجہ سے علی امین گنڈاپور سے اختلافات شدید ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ علیمہ خان کو عمران خان تک رسائی حاصل ہے اور وہ اپنی سوچ کے مطابق معلومات خان تک پہنچاتی ہیں اور خان اسی نسبت سے جواب دیتے ہیں جو وہ بعد میں میڈیا کو بتا دیتی ہیں۔
اس بات سے طارق وحید بھی اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پارٹی میں بھی کچھ لوگ علی امین گنڈاپور سے خوش نہیں ہیں اور وہ علیمہ خان کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طارق وحید کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور سیاست کر رہے ہیں اور ان کا مقتدر حلقوں سے بھی رابطہ ہے اور یہ بات عمران خان بھی جانتے ہیں۔ ان کے مطابق ان اختلافات سے علی امین گنڈاپور پر دباؤ ضرور آتا ہے لیکن ان کی کرسی کو نقصان پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
مزید پڑھیں: ’لگتا ہے مائنس عمران ہو ہی گیا ہے‘، علیمہ خان نے بڑی بات کہہ دی
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو بھی پتا ہے کہ جب تک عمران خان جیل میں ہیں وہ سب سے طاقتور ہیں اور اس طرح کے بیانات اور اختلافات سے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبرپختونخوا حکومت علی امین گنڈاپور علیمہ خان علیمہ خان اور گنڈاپور اختلافات عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا حکومت علی امین گنڈاپور علیمہ خان علیمہ خان اور گنڈاپور اختلافات علی امین گنڈاپور انہوں نے کہا کہ عمران خان کہ علیمہ خان عمران خان کی پارٹی میں پی ٹی آئی نے کہا کہ کے مطابق بتایا کہ میں ہیں ہیں اور کا کہنا اور علی کہ علی کی وجہ
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش