data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250926-08-23

 

 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیں ہے عمران خان کے کیسز کے ساتھ جو ہورہا ہے یہ سب پلان کے مطابق ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سب کو علم ہے ایک ڈراما چل رہا ہے، عمران خان کے ساتھ کیسز کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے یہ سب پری پلان منصوبے کے مطابق کیا جارہا ہے، جب تک ایک کیس میں سزا نہیں ہوتی دوسرا کیس بنا دیتے ہیں ایک کے بعد ایک کیس بنایا جارہا ہے، ملک میں عدلیہ آزاد نہیں ہے عدلیہ آزادی سے اپنے فیصلے نہیں کرپا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے عدالت عظمیٰ کا ایک فورم باقی ہے، ہماری گزارش ہے 25 کروڑ عوام انصاف کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں، آپ کو انصاف دینا ہے آپ کے اوپر کیسز کا دباؤ ہے، آپ اپنی پوزیشن پر بیٹھ کر فیصلے کیوں نہیں کر پارہے؟ آپ کو ایک دن مرنا بھی ہے اور اللہ پاک کو بھی جواب دینا ہے،  قرآن کی تفسیر پڑھیں اور جواب دیں، آپ کھل کر دلائل کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ کیا پاکستان میں مستقبل میں انسانی حقوق ملیں گے؟ حقیقی آزادی اور انصاف ہوگا؟ آپ انصاف دینے میں ناکام ہورہے ہیں، اس طرح نظام نہیں چل سکتا، عمران خان کی ایک برداشت ہے، آپ نے تمام ادارے مفلوج کردیے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان قوم اور ہمارے بچوں کی جنگ لڑ رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی خواہش پر جلسہ ہوگا اور بھرپور جلسہ ہوگا۔

مانیٹرنگ ڈیسک گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدلیہ ا کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف