کیا اسلامی نظریاتی کونسل فقہی اختلافات میں الجھنے جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ہمارے نزدیک حقیقتِ حال یہ ہے کہ فقہی اصولوں میں ہر مکتب اپنا ہی عکس دیکھتا ہے اور ہر مفسّر اپنی ہی تفسیر کو درست مانتا ہے۔ ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلکی حدود سے ماورا ہوکر، دینِ اسلام کی روحانی و اخلاقی تعلیمات کو خالصتاً قرآنی اور نبویؐ تناظر میں سمجھنے کی سعی کرے۔ یہی روش ملک میں دینی شعور کے نمو کا سبب بنے گی اور کونسل کو اسکے اصل مقصد یعنی وحدتِ فکر اور حکمتِ شریعت سے ہمکنار کریگی۔ ہر مکتبِ فکر فقہ میں اپنا عکس دیکھتا ہے اور ہر مفسر تفسیر میں اپنا یقین مگر حقیقت وہی ہے، جو مسالک سے بلند ہو کر وحی کی اصل روح سے ہم آہنگ ہو اور یہی وہ بصیرت ہے، جو ایک منصف مزاج نظریاتی کونسل کی پہچان بن سکتی ہے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
آئینِ پاکستان کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کا دائرہ کار مشورے تک محدود ہے۔ البتہ مبصرین کے مطابق کونسل نے حالیہ اجلاس میں اپنے دائرہ کار سے صریحاً انحراف کیا ہے۔ گذشتہ روز پاکستانی میڈیا نے یہ سُرخی لگا کر سب کو چونکا دیا کہ "اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخ قرار دے دیا۔" یہ بات انجینئر محمد علی مرزا کی ذات سے ہٹ کر بھی قابلِ تشویش ہے کہ کونسل کسی کو گستاخ قرار دے۔ آئینی طور پر کونسل تو صرف مشورہ دینے تک محدود ہے، مگر مرزا کے معاملے میں کونسل کے بیان میں جو زبان اختیار کی گئی ہے، وہ انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔ جیسے "یہ شخص سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے" یا "توہینِ قرآن کی دفعات عائد کی جائیں۔" یہ زبان بتا رہی ہے کہ کونسل کے اندر مرزا کے مخالفین کا اثرونفوذ بہت زیادہ ہے، لہذا کونسل نے اس مسئلے میں اپنی غیر جانبداری کا خود ہی گلا گھونٹ دیا ہے۔
سونے پر سُہاگہ یہ کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ مرزا نے نقلِ کفر کے فقہی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم کونسل کے پیشِ نظر کس فقہ کے فقہی اصول ہیں، اس کا نہیں بتایا گیا۔ یہ بتایا جانا ضروری ہے، چونکہ مفتی طارق مسعود صاحب اور مولانا حافظ سید محمد حیدر نقوی صاحب کے فقہی اصولوں کے مطابق تو مرزا نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ ایک طرف اسلامی نظریاتی کونسل نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجینئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔ دوسری طرف مفتی طارق مسعود صاحب اپنے فقہی اصولوں کی روشنی میں فرما رہے ہیں کہ جیسے مرزا صاحب نے بات نقل کی ہے، اس سے کوئی شخص سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔
ایک طرف کونسل نے فیصلے میں کہا کہ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں، جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں، مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں، اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ دوسری طرف مولانا حافظ سید محمد حیدر نقوی صاحب نے اپنے فقہی اصولوں کی روشنی میں یہ بیان دیا ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کی زیرِ بحث گفتگو کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں اُن کی گفتگو میں بالکل کسی طرح کی توہین کا پہلو موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی تحقیر و استخفاف کا کوئی شائبہ پایا جاتا ہے، رسول اللہﷺ یا قرآن مجید کے حوالے سے اس گفتگو کو گستاخی قرار دینا بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔
یہ بیان کسی بھی پہلو سے اہانت یا بے ادبی کے دائرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر کوئی شخص انجینئر محمد علی مرزا سے کسی بات پر اختلاف یا ناراضگی کے سبب اس گفتگو کو بہانہ بنا کر مرزا صاحب پر توہینِ رسالت کا مقدمہ قائم کرنا چاہتا ہے اور انہیں اس جرم میں حراست میں رکھوانا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ کام بذاتِ خود قران کریم کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے: "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ" ﴿۸﴾ "اے ایمان والو! اللہ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور اللہ سے ڈرا کرو، بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے۔"
قارئینِ محترم کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان میں قانونی طور پر فتویٰ دینے کا اختیار صرف دارالافتاء یا مستند مفتیانِ کرام کو حاصل ہے، لیکن اس اجلاس کے بعد لگتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل اپنے اصل کام کو چھوڑ کر اب فتویٰ دینے اور فیصلہ سنانے یعنی عدالتی میدان میں اُتر آئی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق "کسی فرد کو شرعی مجرم قرار دینا" یہ کسی بھی طور پر کونسل کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ اگر مدعی اور مدعا علیہ، دونوں کی آراء و شواہد کو متوازن انداز میں نہ دیکھا جائے تو رائے دینا نہ صرف ناقص بلکہ متنازع ہو جاتا ہے۔ اس حساس دینی و قانونی مسئلے میں تحمل، تدبر اور انصاف کی زبان درکار تھی، نہ کہ ایسے الفاظ جو رائے کم اور فتویٰ زیادہ دکھائی دیں۔ مرزا کے کیس میں کونسل کا سخت لب و لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف رائے کے اظہار کا نہیں بلکہ مشاورتی دائرہ کار سے تجاوز کرکے فتویٰ سنانے اور عدالتی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا بھی ہے۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ مذہبی بیانیے کی تشکیل، مشاورت، قضاوت اور رہنمائی کا دائرہ کون لگائے اور علمی اختلاف و توہین کے درمیان لکیر کسے کھینچنی چاہیئے۔؟
میڈیا کے مطابق اسلامی کونسل نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیا اور اس سے متعلق فیصلہ دیا۔ تاہم قانونی ماہرین اور اسلامی اسکالرز کے نزدیک اسلامی کونسل کسی قسم کا فیصلہ دینے کی مجاز نہیں، یہ فقط ایک مشاورتی ادارہ ہے۔ اس حوالے سے مجلس علمائے مکتب اہلبیت پاکستان کے صدر علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتویٰ نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک معروف دینی اسکالر کے خلاف، جو اس وقت زیر تفتش ہے، ان کے خطابات اور تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے "گستاخی" کا فتویٰ نما اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف قانونی اور آئینی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، بلکہ دینی و فکری طبقات میں بھی شدید اضطراب نے جنم لیا ہے اور ایک زیر تفتش شہری کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔
انہوں واضح کیا کہ آئینی دفعات کے مطابق کونسل کا بنیادی کام صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ قوانین یا زیرِ غور مسوّدات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تجزیہ کرے اور متعلقہ ریاستی اداروں کو رہنمائی فراہم کرے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ ایک ایسا ادارہ جس کا نصب العین امت کا اتحاد، شریعت کی روح کی حفاظت اور فہمِ دین کا فروغ ہونا چاہیئے، وہ اپنے نصب العین پر عمل درآمد کرتا نظر نہیں آرہا۔ یاد رہے کہ مجلس علمائے مکتب اہلبیت پاکستان "فقہ جعفری کے برجستہ علمائے کرام" پر مشتمل ایک نمایاں اور قومی سطح کی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے صدر نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی دباو میں یا تعصب میں یا کسی اور وجہ سے ادارے کے تشخص کو خراب نا کریں اور آئین کی دی گئی حدود کی پاسداری کریں، نیز شخصی فتوے جاری کرنے کی مثال قائم نہ کریں۔ انہوں نے صریحاً کہا ہے کہ کونسل کا کام مصالحت، اتحاد اور فکری رہنمائی ہے نہ کہ سیاسی یا ریاستی مقدمات میں فریق بننا۔ اگر یہی روش جاری رہی، تو کونسل اپنی آئینی و اخلاقی ساکھ کھو بیٹھے گی۔
مندرجہ بالا سطور اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل نہ ہی تو کسی کے خلاف فتویٰ سنانے کی مجاز ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف فیصلہ دینے کی۔ یعنی یہ ادارہ نہ ہی تو دارُالافتا ہے اور نہ ہی عدالت۔ کسی ایک یا دو مسالک کے فقہی قواعد اور مبانی کو بنیاد بنانا دراصل اس ادارے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ ہماری دانست میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی صاحب ایک جہاندیدہ شخصیت ہیں۔ انہیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے کہ جب فکری اختلاف، انصاف کے دائرے سے نکل کر تعصّب، تکفیر اور تعزیر کے پیکر میں ڈھل جائے، تو علم کا وقار اور سماج کا توازن دونوں مجروح ہو جاتے ہیں۔ لہذا حکمت کا تقاضا ہے کہ ہم باہمی علمی اختلافات کو سمجھنے اور انہیں مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ علمائے کرام اور دانشمندوں کو خاموش کرنے پر تُل جائیں۔
ہمارے نزدیک حقیقتِ حال یہ ہے کہ فقہی اصولوں میں ہر مکتب اپنا ہی عکس دیکھتا ہے اور ہر مفسّر اپنی ہی تفسیر کو درست مانتا ہے۔ ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلکی حدود سے ماورا ہو کر، دینِ اسلام کی روحانی و اخلاقی تعلیمات کو خالصتاً قرآنی اور نبویؐ تناظر میں سمجھنے کی سعی کرے۔ یہی روش ملک میں دینی شعور کے نمو کا سبب بنے گی اور کونسل کو اس کے اصل مقصد یعنی وحدتِ فکر اور حکمتِ شریعت سے ہمکنار کرے گی۔ ہر مکتبِ فکر فقہ میں اپنا عکس دیکھتا ہے اور ہر مفسر تفسیر میں اپنا یقین مگر حقیقت وہی ہے، جو مسالک سے بلند ہو کر وحی کی اصل روح سے ہم آہنگ ہو اور یہی وہ بصیرت ہے، جو ایک منصف مزاج نظریاتی کونسل کی پہچان بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا فقہی اصولوں کہا ہے کہ کونسل کے میں اپنا کونسل کا کے مطابق انہوں نے ہے کہ وہ کے خلاف کے فقہی ہر مکتب
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔