فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ۔ فوٹو: فائل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ معرکۂ حق بھارت کی یادداشت سے کبھی ختم نہیں ہو گا، کسی بھی قیمت پر اپنی دھرتی کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کراچی میں پاکستان نیوی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوست ملک کے کیڈٹس کو مبارک باد دیتے ہیں، ترقی کےلیے عوام، حکومت اور افواج کے درمیان مضبوط تعلق ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، حقِ خودارادیت کے حصول میں کشمیری عوام کے ساتھ ہیں، خطے میں مستحکم امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ناممکن ہے، ہمارا دشمن متکبرانہ اور جارحانہ رویے کا مسلسل مظاہرہ کر رہا ہے۔

آرمی چیف نے کہا ہے کہ بھارت اپنی فوجی طاقت، قوم پرستی اور جعلی اسٹریٹجک اہمیت سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے، گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بہانے دو بار پاکستان پر بلاوجہ حملے کیے، پاکستان کے بھرپور اور مؤثر جواب نے خطےکو ایک بڑے تنازع سے بچایا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود صبر و تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا، امن کو ترجیح دی، آج پاکستان خطے میں ’نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، اگر دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان خودمختاری پر حملے کو برداشت کرے گا تو یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہو گی۔

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دشمن ہماری خود مختاری کو چیلنج کرتا ہے تو نتائج کی ذمے داری اسی پر ہو گی، دشمن ہماری خود مختاری کو چیلنج کرتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، پاکستان ہر حال میں اپنی خود مختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا۔

کراچی: پاک بحریہ کی کمیشننگ پریڈ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی شرکت

پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاک بحریہ کے چاق چوبند دستے نے سلامی دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی خود مختاری پر کسی قسم کی جھجک نہیں دکھائے گا، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سورہ بقرہ کی آیت 249 کا حوالہ بھی دیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ ہمارا قومی جذبہ آزمائشوں کے دوران اور بھی مضبوط ہوا ہے، آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُرعزم ہیں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں کامیابی کے قریب ہے۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر خطے میں کشیدگی پیدا کر رہا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو مکمل کامیابی تک پہنچائیں گے، ملک کو دہشت گردی سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائیں گے، ایسے وقت میں ہمیں کشمیری بھائیوں کی قربانیوں کو ضرور یاد رکھنا چاہیے۔

آرمی چیف سید عاصم منیرکا کہنا ہے کہ کشمیری بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ حل کا پُرزور حامی ہے، پاکستان کے لیے مضبوط اور مؤثر میری ٹائم فورس برقرار رکھنا ناگزیر ہے، دشمن یہ سمجھے کہ پاکستان کمزور ہے یا جواب نہیں دےگا تو وہ سخت غلطی پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جس جدوجہد کو ’دہشت گردی‘ کہتا ہے، وہ دراصل ایک جائز اور قانونی آزادی کی جدوجہد ہے، کشمیریوں کی اس جدوجہد کو بین الاقوامی قوانین بھی تسلیم کرتے ہیں۔

اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سورہ آلِ عمران کی آیت 54 کا حوالہ دیا کہ اللّٰہ تعالی فرماتا ہے:’انہوں نے چالیں چلیں اور اللّٰہ نے بھی تدبیر کی اور بہترین تدبیر کرنے والا اللّٰہ ہے۔‘(سورہ آلِ عمران، آیت 54)

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل تک جنوبی ایشیاء میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، حقِ خودارادیت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ تحسن پیش کرتا ہوں، خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ان بہادر کشمیریوں کو جو آج بھی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی ظالم حکومت کشمیریوں کی ہمت اور حوصلے کو کبھی پست نہیں کر سکتی، پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا، پاکستان کے دشمن مسلسل ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارا ترقی کا سفر جاری ہے، پاکستان ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف نے کہا کہ بھارت کا کہنا ہے کہ خود مختاری انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار