شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 13 جوان شہید، جوابی کارروائی میں 14 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 13 جوان شہید ہوگئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 14 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار نے سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کرکے خود کو اڑانے کی کوشش کی جسے ناکام بنایا گیا، تاہم دہشتگردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو سیکیورٹی فورسز کے قافلے سے ٹکرا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 13 جوانوں نے اس واقعے میں جام شہادت نوش کیا، جبکہ واقعے میں 2 بچوں اور ایک خاتون سمیت 3 بے گناہ شہری بھی شدید زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا میں صوبیدار زاہد اقبال، حوالدار سہراب خان، حوالدار میاں یوسف، نائیک خطاب شاہ، سپاہی روحیل ، سپاہی محمد رمضان، سپاہی نواب، سپاہی زبیر احمد اور سپاہی محمد رمضان شامل ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق مزید شہید ہونے والوں میں سپاہی ہاشم عباسی، سپاہی مدثر اعجاز، سپاہی منظر علی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے واقعہ کے بعد خوارج کا تعاقب کیا اور اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں آپریشن جاری رہے گا اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ ملک سے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خاتمے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور ہمارے بہادر فوجیوں اور معصوم شہریوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔