سانحہ سوات:پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(صباح نیوز) سانحہ سوات کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظورکرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا، اجلاس میں ڈسکہ کے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ پنجاب اسمبلی نے سانحہ سوات پر شدید اظہار افسوس کرتے ہوئے متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ رانا ارشد کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ سوات میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے، خیبرپختونخوا حکومت اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ضیاع سے بچایا جا سکے۔ایوان میں سانحے میں جاں بحق ہونے والے ڈسکہ کے رہائشیوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ اراکین اسمبلی نے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے غم میں برابر کا شریک ہونے کا عزم ظاہر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔