مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ اور آپریشن سندور کی کامیابی کے دعوے بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ اور آپریشن سندور کی کامیابی کے دعوے بے نقاب ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی کالم نگار سشانت سنگھ نے پہلگام حملے سے آپریشن سندور تک کی مودی کی ناکامیوں کو آشکار کر دیا۔
سشانت سنگھ نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن جواب طلب سوالات باقی ہیں، پہلگام حملہ اگر انٹیلی جنس اور سیکورٹی ناکامی تھی تو کسی اعلیٰ سیکورٹی اہلکار یا سیاسی رہنما کو ذمہ دار کیوں نہیں ٹھہرایا گیا؟ پہلگام کے حملہ آوروں کو پاکستان سے جوڑنے کا ثبوت کہاں ہے۔
سشانت سنگھ پہلگام حملے کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن سندور کو فتح کے سرکاری بیانیہ میں تبدیل کیا گیا، مودی حکومت نے 2019 کے بالاکوٹ فضائی حملوں کے نتائج کو ایک عظیم فتح کے طور پر دکھایا، اب آپریشن سندور کو بھی ایک کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بھارتی فضائیہ نے اپنے پانچ لڑاکا طیارے گنوائے۔
سشانت سنگھ نے کہا کہ حکومت نے سٹرائیک کی کوئی سیٹلائٹ تصویر یا ویڈیو شواہد منظر عام پر نہیں لائے، آپریشن سندور کی کہانی بدستور مدھم ہے اور سوالات کے جوابات کا انتظار ہے۔
سشانت سنگھ نے کہا کہ جدید رافیل طیارے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے، جب تک بھارت پہلگام اور اس پر فوجی ردعمل سے سبق نہیں سیکھتا، بھارت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سشانت سنگھ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر