مولانا فضل الرحمٰن—فائل فوٹو 

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ 2018ء کی طرح 2024ء کا الیکشن بھی دھاندلی زدہ ہے، نتائج تسلیم نہیں کرتے۔

بٹگرام میں شعائر اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ اُس حکومت کو چلنے دیا، نہ موجودہ حکومت کو چلنے دیں گے، یہ حکومتیں نہیں چلیں گی، عوام کے فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن  نے کہا ہے کہ کوئی بھی طاقت عوام اور جے یو آئی کے درمیان فاصلے پیدا نہیں کر سکتی، آگے بڑھیں گے اور پاکستان کے اندر انقلاب برپا کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کی لفٹ میں 2 منٹ تک پھنسے رہے

مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کےاجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہمارا ملک اس وقت آئین کی پٹری سے اتر رہا ہے، عوام کے بغیر ہم اس ملک میں کوئی حکمرانی نہیں مانتے، وام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لو، ہم چیختے رہے جس طرح فاٹا کو ضم کر رہے ہو یہ غلط فیصلہ ہے، قبائل اس انضمام پر راضی نہیں تھے، آج آپ پچھتا رہے ہیں کہ انضمام کا غلط فیصلہ کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سوات میں کچھ سیاح طغیانی کی نذر ہو گئے، نہ انتظامیہ احساس کرتی ہے اور نہ لوگ احتیاط کرتے ہیں، عوام کو ان دنوں میں سیاحتی جگہوں پر جانے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو امریکا کی رضا مندی کے ساتھ چلاتے ہیں تو پھر جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہو؟ ایوان میں آپ نے 18 سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکی کے نکاح کو ناجائز قرار دیا، آئین کہتا ہے کہ قرآن و دین کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو گی۔

عالم دین کے خلاف بندوق اٹھانا جہاد نہیں تنگ نظری ہے، مولانا فضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مولانا حسن جان کو شہید کیا گیا اپنے استاد کے قاتل کو مجاہد کیسے کہیں۔

انہوں نے کہا کہ 60 ہزار فلسطینی صہیونیوں کی بمباری سے شہید ہوئے، ٹرمپ کو جنگ بندی کا خیال نہیں آیا، آج جب ایران نے اسرائیل پر بمباری کی تو ٹرمپ کو جنگ بندی کا خیال آیا،  جب ہندو اور یہود پٹتا ہے تو تمہیں امن یاد آتا ہے، جب مسلمان شہید ہوتے ہیں تو وہاں آپ کو امن کیوں یاد نہیں آتا؟ آج چین کی طاقت کو روکنے کے لیے آپ مسلمانوں کو کہتے ہو کہ آؤ اتحاد کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی