کراچی: جعلی پولیس اہلکاروں سمیت 3 ملزمان گرفتار، اسلحہ، موبائل اور موٹرسائیکل برآمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
زمان ٹاؤن پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پولیس کی جعلی وردی میں ملبوس دو بہروپیوں سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کورنگی کراسنگ پل کے نیچے گشت کے دوران عمل میں لائی گئی۔
ترجمان پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں دو افراد سندھ پولیس کی جعلی وردی میں ملبوس تھے اور خود کو پیٹرولنگ پولیس اہلکار ظاہر کر رہے تھے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے ایک شہری کا چھینا ہوا موبائل فون اور تھانہ لانڈھی کی حدود سے چوری شدہ موٹرسائیکل برآمد کر لی ہے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی:
محمد جامی سعیدی ولد نیاز حسین — جعلی پولیس وردی میں، پی کیو آر ملازم جھانزیب ولد امجد علی — جعلی پولیس وردی میں، پی کیو آر ملازم محمد موسیٰ ولد غلام قادرپولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان پولیس کا روپ دھار کر شہریوں کو دھوکا دینے اور وارداتوں میں ملوث تھے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق تینوں ملزمان نے متعدد وارداتوں میں شامل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
تھانہ زمان ٹاؤن میں ملزمان کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 827/2025 دفعہ 170/171/382 ت پ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک