کراچی، بھینس کالونی نمبر 7 میں ڈکیتی کی واردات، سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے بھینس کالونی نمبر 7 میں ڈیری فارم کے باہر ایک شہری سے ڈکیتی کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے۔
یہ واردات چند گھنٹے قبل پیش آئی، جس میں موٹرسائیکل سوار دو ملزمان نے شہری کو لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ملزم موٹرسائیکل اسٹارٹ کر کے ادھر ادھر گھومتا رہا، جب کہ اس کا مسلح ساتھی شہری کے قریب پہنچا اور اسلحے کے زور پر موبائل فون چھین لیا۔
واردات کے دوران ملزمان کا چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا، لیکن فوٹیج سے ملزمان کی شناخت کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واردات کے فوراً بعد دونوں ملزمان موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے جلد کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی سی ٹی وی فوٹیج
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔