بڑا فیصلہ: بجلی صارفین کیلئے یکساں ٹیرف : نیپرا کو درخواست‘ سماعت کل
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+این این آئی) بجلی صارفین کے لیے یکساں ٹیرف نظام کو نافذ کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا۔ پاور ڈویژن نے یونیفارم ٹیرف سے متعلق غور کے لیے نیپرا سے رجوع کرلیا۔ اتھارٹی یکساں بجلی کے نرخوں سے متعلق درخواست پر سماعت کل یکم جولائی کو کرے گی، حکومت نے نیپرا ٹیرف قواعد 1998ء کے قاعدہ 17 کے تحت درخواست جمع کرائی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مجوزہ ٹیرف میں سبسڈی اور انٹر ڈسکوز ریٹ ریشنلائزیشن شامل کیا جائے، مقصد ملک بھر کے تمام صارفین کے لیے مساوی نرخ مقرر کرنا ہے۔ ٹیرف کو 1 جولائی 2025ء سے نافذ کرنے کی تجویز دی گئی۔ نیپرا کے مطابق سماعت میں وفاقی حکومت کی مجوزہ درخواست پر غور کیا جائے گا۔ یکساں ٹیرف، سبسڈی اور ریٹ ریشنلائزیشن پر غور کیا جائے گا، تمام سٹیک ہولڈرز سماعت میں شریک ہو کر اپنی آراء کا اظہار کر سکتے۔ملک بھر کے لئے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ایک روپے 16 پیسے فی یونٹ تک کمی۔ لائف لائن صارفین کے سوا باقی تمام صارفین کے بجلی ٹیرف میں کمی کی درخواست دی ہے۔ بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں ایک روپے 15 پیسے فی یونٹ ماہانہ ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں ایک روپے 15 پیسے کمی ماہانہ ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 10 روپے 54 پیسے فی یونٹ مقرر کرنے کی درخواست کی۔ ایک سو ایک تا200 تک پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف ایک روپے 15 پیسے کی، ایک سو ایک تا 200 پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 13 روپے ایک پیسہ فی یونٹ مقرر کرنے کی درخواست دی۔ ماہانہ ایک تا 100 یونٹ نان پروٹیکٹڈ صارفین کا نرخ ایک روپے 15 پیسے کمی کی درخواست دی۔ ماہانہ ایک تا 100 یونٹ نان پروٹیکٹڈ صارفین کا نرخ 22 روپے 44 پیسے مقر کرنے کی درخواست کی۔ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے200 یونٹ تک استعمال پر فی یونٹ ایک روپے 16 پیسے کمی کی درخواست کی ہے۔ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے 200 تک استعمال پر فی یونٹ 28 روپے 91 پیسے مقرر کرنے کی درخواست دی ہے۔ ماہانہ 300 یونٹس سمیت تمام گھریلو سلیب کیلئے فی یونٹ ایک روپے 16 پیسے کم کرنے کی درخواست دی۔ کمرشل صارفین کیلئے فی یونٹ ٹیرف ایک روپے 13 پیسے کم کرنے کی درخواست دی۔ الیکٹریکل وہیکلز سٹیشنز کا نرخ 23 روپے 57 پیسے فی یونٹ مقرر کرنے کی درخواست کی۔ جنرل سروسز کیلئے فی یونٹ بجلی کا نرخ ایک روپے 16 پیسے فی یونٹ کم کرنے کی درخواست کی ہے۔ جنرل سروسز کیلئے فی یونٹ بجلی نرخ 42 روپے 48 پیسے مقرر کرنے کی درخواست کی ہے۔ صنعتوں کیلئے مختلف کیٹگریز کے ٹیرف میں ایک روپے 15 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کی ہے۔ پبلک لائسنگ اور زرعی ٹیوب ویلز کے کیلئے ایک روپے 16 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کی ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ میں 10پیسے اضافے کی درخواست پر سماعت آج پیر کے روز ہو گی ۔سنٹرل پاور پرچیز نگ ایجنسی نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 10پیسے یونٹ اضافہ مانگا ہے ۔نیپرا کی جانب سے درخواست پر سماعت آج پیر 30جون کو ہو گی ۔سماعت کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جائے گا۔سی پی پی اے نے مئی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر اضافہ مانگا ہے ،منظوری ملنے پر جولائی کے بلوں میں اضافی قیمت وصول کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مقرر کرنے کی درخواست نان پروٹیکٹڈ صارفین کرنے کی درخواست کی کرنے کی درخواست دی ٹیرف میں ایک روپے کی درخواست کی ہے ایک روپے 16 پیسے ایک روپے 15 پیسے کمی کی درخواست کیلئے فی یونٹ پیسے فی یونٹ ماہانہ ایک درخواست پر کیا جائے یونٹ تک کے ٹیرف کا نرخ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔