مدینہ منورہ پوسٹ حج آپریشن عروج پر: 214 میں سے 207 شکایات کا ازالہ کر دیا گیا۔:محمد ریاض ڈپٹی کوآرڈینیٹر حج میشن مدینہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
مدینہ منورہ ( نمائندہ نوائے جاوید اقبال بٹ ) پاکستانی حجاج کرام کے لیے پوسٹ حج آپریشن تیزی سے جاری ہے اور حکام کے مطابق حاجیوں کی جانب سے درج کی گئی بیشتر شکایات کو مؤثر انداز میں حل کر لیا گیا ہے۔ مدینہ میں پاکستانی حج مشن کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر محمد ریاض نے بتایا کہ موصول ہونے والی 214 شکایات میں سے 207 کو کامیابی سے نمٹا دیا گیا ہے، جبکہ باقی چند شکایات پر بھی کام جاری ہے اور جلد ان کا حل بھی متوقع ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں شکایات کی کم شرح کو وزارت مذہبی امور کی بروقت اور بہتر انتظامی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا، جس کے تحت حجاج کے لیے رہائش، خوراک اور پانچ دن کے حج مناسک کے دوران نمایاں سہولیات فراہم کی گئیں۔ محمد ریاض نے مزید کہا کہ "اس سال کیے گئے بروقت اقدامات کی بدولت پاکستانی حجاج کی شکایات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔" انہوں نے مدینہ میں قائم "لوسٹ اینڈ فاؤنڈ سیل" کی کارکردگی کو بھی سراہا، جس نے اب تک 540 شکایات پر کارروائی کی، جن میں سے 533 شکایات فوری کارروائی کے ذریعے حل کی گئیں، جبکہ باقی شکایات جلد از جلد نمٹا دی جائیں گی۔ حجاج کو بلاتعطل خدمات فراہم کرنے کے لیے کئی ٹیمیں، جن میں ارلی ڈپارچر سیل، شکایات سیل، فوڈ کیٹرنگ ٹیم اور دیگر خصوصی شعبے شامل ہیں، دن رات مصروف عمل ہیں۔ محمد ریاض کا کہنا تھا کہ یہ سروسز اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک آخری پاکستانی حاجی مدینہ سے روانہ نہیں ہو جاتا۔ محمد ریاض نے ڈائریکٹر حج مدینہ جناب ضیاء الرحمٰن کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ہر مرحلے پر مکمل تعاون اور ہمہ وقت سپورٹ فراہم کی۔ اب تک تقریباً 41,000 پاکستانی حجاج کرام مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں تاکہ اپنے باقی مناسک ادا کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ حجاج کرام کو ایک منظم، پُرامن اور روحانی طور پر پُراثر ماحول کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستانی حج محمد ریاض کے لیے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔