وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کےلئے سپین روانہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جون ۔2025 )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب رمدے چوتھی انٹرنیشنل کانفرنس آن فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کےلئے سپین روانہ ہو گئے ہیںیکم جولائی سے سپین کے شہر سیویل میں منعقدہ اس چار روزہ کانفرنس میں مختلف ملکوں سے راہنماﺅں، پالیسی سازوں اور ترقیاتی ماہرین کی ایک بڑی تعداد شریک ہو گی.
(جاری ہے)
کانفرنس میں ترقی پذیر اور ابھرتی معیشتوں کے لیے پائیدار اور جدید مالیاتی حکمت عملیوں کی تیاری اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو تیز کرنے کی کوششوں پر غورو خوض ہو گا وزارت خزانہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ اپنے دورے کے دوران کانفرنس کے مرکزی اجلاسوں اور مختلف اعلی سطحی سائیڈ ایونٹس میں شریک ہوں گے سینیٹر اورنگزیب ایک اہم سیشن قرض کے بدلے ترقی: ڈی سی ایس فنانسنگ اپروچ میں مہمانِ خصوصی ہوں گے، جہاں وہ پاکستان کا موقف اور ترقیاتی مالیات میں قرض کی تنظیمِ نو اور ڈپازٹ پروٹیکشن کے امکانات پر بات کریں گے. وزیر خزانہ کانفرنس کے دوران نجی کاروباروں اور فنانس تک رسائی و استعمال کے موضوع پر ملٹی سٹیک ہولڈر گول میز مذاکرے کے شریک چئیر ہوں گے زیر خزانہ انٹرنیشنل بزنس فورم پالیسی ڈائیلاگ کے زیر اہتمام ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کریڈٹ ریٹنگز کے کردار پر پالیسی ڈائیلاگ سے کلیدی خطاب کریں گے وہ انٹرنشینل بزنس فورم کے زیر اہتمام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے مالی معاونت میں توسیع کے موضوع پر بھی خطاب کریں گے. وزیر خزانہ ترقی کے لئے عالمی تعاون کی بحالی و تجدید کے موضوع پر منعقدہ ایک گول میز مذاکرے سے بھی خطاب کریں گے اسکے علاوہ یونیسف کے زیر اہتمام بچوں اور نوجوانوں کے لیے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے اور بچوں کے لیے جدید اور پائیدار فنانسنگ کے موضوع پر ایک مکالمہ میں بھی شریک ہوں گے اور کانفرنس کے موقع پر کئی اہم عالمی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے سیکرٹری جنرل جان ڈینٹن اور نیدرلینڈز کے نائب وزیر برائے ترقی اسٹیون کولٹ شامل ہیں وفاقی وزیر خزانہ کی اس کانفرنس میں شرکت پاکستان کے اس عزم کی عکاس ہے کہ ملک جدید مالیاتی حل، عالمی تعاون اور ترقیاتی موضوعات پر پاکستان کی موثر آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کانفرنس میں کے موضوع پر اور ترقی کریں گے کے لیے ہوں گے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :