شہر قائد میں ہونے والی بارشوں کے بعد صورت حال گھمبیر ہوگئی ہے، شہر کی کئی سڑکیں اور علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ مختلف حادثات میں باپ بیٹی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق لیاری کے علاقے موسیٰ کالونی گلی نمبر 5 میں تیسری منزل کے فلیٹ کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر باپ اور بیٹی جاں بحق ہوگئے۔

متوفی کی بیٹی ، بیٹا اور خاتون سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہل محلہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی جبکہ ایدھی کے رضا بھی موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کاروائیوں کے دوران ملبے دب کر جاں بحق و زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 45 سالہ دانش اور اس کی کمسن بیٹی 3 سالہ عالمیہ کی لاشیں ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کی گئیں جبکہ متوفی دانش کی بیٹی 11 سالہ ایان اور بیٹا 12 سالہ دانش بھی زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ زخمیوں میں 4 سالہ زبیدہ ، 30 سالہ بینش اور 30 سالہ کاشف شامل ہے جنھیں سول اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ایدھی کے رضا کاروں کی جانب سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

علاقہ مکین قادر نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہے تاہم مجبوری کی وجہ سے لوگوں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے واقعہ چوتھی منزل کا فرش تیسری منزل پر بنے ہوئے ڈرائنگ روم میں گر گیا جہاں پر لوگ موجود تھے اور اس افسوسناک واقعے میں باپ اور کمسن بیٹی جاں بحق اور دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

اس سے قبل منظور کالونی کے علاقے سیکٹر آئی گلی نمبر 1 میں دیوار سیمنٹ کی چادروں کی چھت پر گرنے کے نتیجے میں کمسن بیٹا جاں بحق جبکہ باپ اور بڑا بیٹا زخمی ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے چھیپا کے رضا کار موقع پر پہنچ کر متوفی کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال پہنچائی جہاں اس کی شناخت 2 سالہ حسن کے نام سے کی گئی جبکہ چھت گرنے سے متوفی حسن کا والد 40 سالہ رضوان اور بڑا بھائی 6 سالہ محمد حسین زخمی ہوگیا۔

اس حوالے سے چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ پہلی پڑوس کی دیوار کا کچھ حصہ سیمنٹ کی چاردوں سے بنی ہوئی گھر کی چھت پر گری تھی اس حوالے سے ایس ایچ او بلوچ کالونی مظہر کانگو نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ دیوار گرنے کے باعث پیش آیا ہے جبکہ پولیس کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب شہر قائد میں بارشوں کے باعث کراچی کا حلیہ بگڑ گیا اور کئی نشیبی علاقوں میں دو ، دو فٹ سے زائد پانی کھڑا ہوگیا، جبکہ اختر کالونی اور گجر نالہ ابلنے کی وجہ سے نالے کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔

اس کے علاوہ ریڈ زون میں گورنر ہاؤس، لیاقت آباد، ناظم آباد، اولڈ سٹی ایریا سمیت دیگر علاقے بھی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے۔

اُدھر میئر کراچی نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی کے کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کو یقین دلایا کہ جن علاقوں میں پانی جمع ہے وہاں سے جلد اخراج کردیا جائے گا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان اس حوالے سے زخمی ہوگئے

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ