حکومت کا پاکستانی پاسپورٹ کی بہتری کا دعوٰی جھوٹا نکلا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جون2025ء) حکومت کا پاکستانی پاسپورٹ کی بہتری کا دعوٰی جھوٹا نکلا، پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار، حکومت کو جھوٹے دعوے پر مبنی ایکس پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑ گئی۔ تفصیلات کے مطاق گزشتہ دنوں وفاقی حکومت کی جانب سے دعوٰی کیا گیا تھا کہ پاکستان کا پاسپورٹ نمایاں بہتری سے دنیا کے 100 بہترین پاسپورٹ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
تاہم اب سامنے آنے والے حقائق کے مطابق حکومت کا دعوٰی جھوٹ پر مبنی تھا، اسی باعث حکومت پاکستان کے ایکس اکاونٹ سے اس دعوے پر مبنی پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے ایکس اکاونٹ ڈیلیٹ کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ عالی سطح پر پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ میں کوئی بہتری نہیں آئی۔(جاری ہے)
ہینلی پاسپورٹ انڈیکس کی اصل رپورٹ میں پاکستان کا پاسپورٹ 2021 سے 2025 تک دنیا کے آخری چار بدترین پاسپورٹس میں شامل رہا ہے۔
درجہ بندی میں 100 ویں نمبر پر آنا صرف تکنیکی تبدیلیوں (مثلاً متعدد ممالک کا مشترکہ درجہ) کا نتیجہ ہے، نہ کہ ویزا فری ممالک میں اضافہ یا کسی حقیقی بہتری کا۔ 2021 میں پاکستان کا ویزا فری اسکور 32 تھا اور 2025 میں بھی وہی ہے۔ 2025 میں پاکستان نے یہ درجہ صومالیہ اور یمن کے ساتھ مشترکہ طور پر حاصل کیا اور اب بھی صرف عراق، شام اور افغانستان سے بہتر پوزیشن پر ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔