پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری، کتنے اور کونسے ممالک میں اب ویزا فری انٹری مل سکے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری، کتنے اور کونسے ممالک میں اب ویزا فری انٹری مل سکے گی؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں اہم بہتری آئی ہے، جس کے بعد پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کے ذریعے سفر کر سکیں گے۔
حال ہی میں، عالمی شہرت یافتہ کمپنی ہیلی اینڈ پارٹنرز نے پاکستانی پاسپورٹ کو 100 ویں نمبر پر درجہ دیا ہے۔ 2021 میں یہ پاسپورٹ 113 ویں نمبر پر تھا، لیکن اب کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ 13 درجے بہتری کے ساتھ دنیا کے 100 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
یہ بہتری پاکستانی شہریوں کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ اس کے ذریعے انہیں مختلف ممالک میں بغیر ویزا کے جانے کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس سے پاکستان کا عالمی سطح پر سفر کرنے والوں کے لیے ایک نیا دروازہ کھلتا ہے۔
اب پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز یہ 32 ممالک بغیر ویزا کے یا ویزا آن ارائیول کے ذریعے وزٹ کر سکتے ہیں:
بارباڈوس
برونڈی
کمبوڈیا
کیپ ورڈے جزائر
کوموروس
کک آئلینڈز
جیبوتی
ڈومینیکا
گنی-بساو
ہیٹی
کینیا
میڈاگاسکر
مالدیپ
مائکرونیشیا
منٹسیریٹ
موزمبیق
نیپال
نیو
پالا جزائر
قطر
روانڈا
ساموا
سینگال
سیشلز
سیرالیون
صومالیہ
سری لنکا
سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈینز
تیمور-لیسٹے
ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو
تووالو
وانواٹو
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ دو طرفہ معاہدہ بھی ایک اور مثبت قدم ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزا فری سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔
یہ تبدیلی پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو انہیں دنیا کے مختلف ممالک میں نئے مواقع فراہم کرے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں مزید بہتری آئے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغریب عوام پر پٹرول بم گرانے کی تیاری، قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان غریب عوام پر پٹرول بم گرانے کی تیاری، قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ٹرمپ نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زہران ممدانی کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی زہران ممدانی جیسے رہنما امریکی معاشرے میں اتحاد کی علامت ہیں:محمد عارف ٹرمپ کا دباؤ کام کرگیا، نیتن یاہو کیخلاف کرپشن ٹرائل مؤخر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے دوست پاکستان کےساتھ کھڑے ہیں،، ترک صدر ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن میں 20بچوں کی موت کیسے ہوئی؟ انکوائری مکملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانی پاسپورٹ ممالک میں ویزا فری
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس بوجھ کم کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کو کسی قسم کی رعایت دیے جانے کا امکان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
ذرائع کے مطابق حکومت ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے مختلف ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پراپرٹی ٹیکسز میں مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا اور مجموعی طور پر حکومتی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ایف بی آر کے حکام کے مطابق پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ 3 ماہ کے دوران جائیدادوں کے ویلیو ایشن ریٹس میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خرید و فروخت کے عمل کو تیز کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح پراپرٹی فروخت کرنے پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد تک لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور لین دین کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟
دوسری جانب نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی ٹیکس رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے عائد مجموعی ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں تقریباً 10.5 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ریلیف صرف ٹیکس نیٹ میں شامل افراد تک محدود رکھا جائے گا تاکہ مزید شہریوں کو فائلر بننے کی ترغیب دی جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پراپرٹی سیکٹر سے متعلق مختلف ٹیکسوں کی وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس عرصے میں پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم رہیں جبکہ 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی میں 68 فیصد اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37A کے تحت وصول کیے جانے والے 10 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح شق 7E کے تحت ڈیمڈ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں بھی 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ
ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کے صدر احسن ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کا وژن ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر 45 سے 55 مختلف صنعتیں وابستہ ہیں لہٰذا اس سیکٹر میں سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ 4 فیصد سے زائد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا ناگزیر ہے، کیونکہ اس شعبے کی بحالی سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی تقویت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہے، رانا ثناءاللہ
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف اور دیگر اصلاحات سے متعلق تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد حکومت پراپرٹی ٹیکس نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ میں ریلف پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ٹیکس ریلیف وفاقی بجٹ 2026-27