تبتی بدھ بھکشوؤں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے اپنی 90 ویں سالگرہ سے قبل اشارہ کیا کہ بدھ مت سے متعلق تبتی ادارہ ان کی موت کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسلا میں بدھ مت کے مقدس مقام پر عالمی امن کے لیے دعائیں

تبت سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کا کہنا ہے کہ صدیوں پرانا یہ ادارہ ان کی موت کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔

دلائی لامہ 6 جولائی کو 90 برس کے ہوجائیں گے۔ دعائیہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے تینزن گیاتسو (دلائی لامہ) نے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی تو ایسا فریم ورک ہو گا جس کے اندر ہم اس کے تسلسل کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔

تبتی بدھ مت کے پیروکار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دلائی لامہ اس جسم کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں جس میں وہ دوبارہ جنم لینا چاہتے ہیں۔ سنہ 1587 میں اس ادارے کے قیام کے بعد سے اب تک 14 مواقع پر ایسا ہوا ہے۔ تاہم موجودہ دلائی لامہ ماضی میں مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر آخری لامہ بھی ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے سنہ 2004 میں ٹائم میگزین کو بتایا تھا کہ دلائی لامہ کا ادارہ اور اسے جاری رکھنا چاہیے یا نہیں یہ تبتی لوگوں پر منحصر ہے۔ اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ اب یہ بامعنیٰ نہیں رہا تو یہ ختم ہو جائے گا اور 15ویں دلائی لامہ نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیے: ہمالیہ کے سائے تلے بدھ مت کی قدیم عبادت گاہ

گیاتسو سنہ 1935 میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے سنہ 1940 میں دلائی لامہ کا 14واں اوتار حاصل کیا تھا۔ سنہ 1959 میں تبت کے دارالحکومت لہاسا میں چینی فوجیوں نے بغاوت کو کچل دیا تھا جس کے بعد سے وہ بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

’دلائی لامہ کا اگلا جنم‘

چین دلائی لامہ کو ایک ایسا علیحدگی پسند تبتی مانتا ہے جو تبت پر چینی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور جن کی وفاداریاں جلاوطنی میں تبتی حکومت کے ساتھ ہیں۔

گیاتسو اپنے پیروکاروں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ بیجنگ کی طرف سے تجویز کردہ کسی بھی جانشین کو مسترد کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ دلائی لامہ کا اگلا جنم بھارت میں بھی ہو سکتا ہے اور وہ لڑکا یا لڑکی کوئی بھی ہو سکتا ہے۔

ایک طرف جب دلائی لامہ کی جانشینی کا سوال اب زیادہ سے زیادہ غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے وہ خود اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کارگاہ بدھا‘، گلگت بلتستان کا مقام جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کا ہجوم ہوتا ہے

دلائی لامہ نے کہا کہ اگرچہ میں 90 سال کا ہوں لیکن جسمانی طور پر میں بہت صحت مند ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت میں دنیا ترک کروں گا اس وقت بھی میں اپنے آپ کو دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف کرتا رہوں گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تبت تبتی بدھ بھکشو دلائی لامہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تبتی بدھ بھکشو دلائی لامہ دلائی لامہ کا بدھ مت کے انہوں نے تبتی بدھ سکتا ہے کے بعد کہا کہ ہیں کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔

پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق