فضائی آلودگی دل کے لیے بھی خطرناک، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹورنٹو: فضائی آلودگی صرف پھیپھڑوں اور سانس کے نظام کو متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ ہمارے دل کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے، کینیڈا کی معروف ٹورنٹو یونیورسٹی کی ایک تازہ طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک فضائی آلودگی میں سانس لینے والے افراد کے دل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہاں تک کہ دل کے افعال متاثر ہونے لگتے ہیں، دل کو خون پمپ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کے مائیکرو ذرات (Particulate Matter) جب طویل عرصے تک جسم میں داخل ہوتے رہیں تو یہ دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دل کو خون پمپ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے، یہ صورتحال بظاہر خاموش ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے اس تحقیق میں 493 مریضوں اور 201 صحت مند افراد کا تقابلی تجزیہ کیا، کارڈک ایم آر آئی (Cardiac MRI) ٹیکنالوجی کے ذریعے فضائی آلودگی سے دل پر پڑنے والے اثرات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا۔
نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ افراد جو زیادہ آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں، ان کے دلوں میں ساختی تبدیلیاں اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹیں دیکھی گئیں۔ دل کے پٹھوں کی کارکردگی کمزور ہونے لگی اور خطرناک حد تک دل کے افعال متاثر ہوئے۔
کن افراد کو سب سے زیادہ خطرہ؟
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ خطرہ خاص طور پر درج ذیل افراد کے لیے زیادہ ہوتا ہے، جس میں خواتین، تمباکو نوشی کرنے والے افراد، ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) کے مریض شامل ہیں،اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی فرد پہلے سے کسی دل یا شریان سے متعلق بیماری کا شکار ہے تو فضائی آلودگی اس کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی اور امراضِ قلب، خاص طور پر ہارٹ اٹیک اور فالج (Stroke) کے درمیان براہ راست تعلق ہے، یہ وہ بیماریاں ہیں جو دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں۔
پہلے بھی مختلف سائنسی مطالعات میں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ فضائی آلودگی دل کی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے مگر اس کی اصل وجہ مکمل طور پر واضح نہیں تھی، اب ٹورنٹو یونیورسٹی کی تحقیق نے یہ بات مزید تقویت دی ہے کہ آلودگی کے ننھے ذرات دل کے خلیات کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، آلودہ علاقوں میں باہر نکلنے سے گریز کیا جائے، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت اگر نکلیں تو ماسک کا استعمال کیا جائے، گھر میں ایئر پیوریفائرز کا استعمال کیا جائے، تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کیا جائے، بلڈ پریشر اور دل کے دیگر مسائل کا باقاعدہ معائنہ کرایا جائے۔
یہ تحقیق شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ اور پبلک ہیلتھ پالیسیز کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ فضائی آلودگی کو قومی سطح کے صحت کے بحران کے طور پر لیں، کیونکہ یہ خاموشی سے لاکھوں زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
طبی ماہرین نے مزید کہا کہ اگر فوری طور پر آلودگی پر قابو نہ پایا گیا، تو آئندہ دہائیوں میں دل کی بیماریاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں شہروں کی بے ہنگم ترقی اور ٹریفک آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائی آلودگی کیا جائے سکتی ہے کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال