Islam Times:
2026-06-03@06:42:46 GMT

پاکستان میں ترسیلات زر میں 100 فیصد اضافہ متوقع

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

پاکستان میں ترسیلات زر میں 100 فیصد اضافہ متوقع

ملک بوستان نے کہا کہ پی آر آئی اسکیم سے انٹرنیشنل منی ٹرانسفر کمپنیوں کی بلیک میلنگ ختم ہو جائے گی اور اس اسکیم کے تحت ترسیلات زر کی حد 100 ڈالر سے بڑھ کر 200 ڈالر ہوگئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان ریمیٹینس انیشیٹو اسکیم میں ایکسچینج کمپنیوں کو شامل کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں تجارتی بینکوں کے بعد اب ایکسچینج کمپنیاں بھی پی آر آئی میں شامل ہوگئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس ضمن میں سرکلر نمبر 4 جاری کر دیا گیا ہے۔ ایکسچینج ایسوسی آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے کہ پی آر آئی میں شامل ہونے کے بعد اب ترسیلات زر میں 100 فیصد اضافہ متوقع ہے، تجارتی بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کا فی ڈالر منافع اب یکساں ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسچینج کمپنیز نے پچھلے سال 4 ارب ڈالرز انٹر بینک میں جمع کروائے تھے۔

ملک بوستان نے کہا کہ پی آر آئی اسکیم سے انٹرنیشنل منی ٹرانسفر کمپنیوں کی بلیک میلنگ ختم ہو جائے گی اور اس اسکیم کے تحت ترسیلات زر کی حد 100 ڈالر سے بڑھ کر 200 ڈالر ہوگئی ہے۔ ملک بوستان نے کہا کہ 200 ڈالر ترسیلات زر بھیجنے والے سے سینڈنگ فیس بھی نہیں لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسچینج کمپنیوں کا اگلا ہدف ایک سال میں 8 سے 10 ارب ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں جمع کرانے کا مقرر کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملک بوستان ترسیلات زر پی آر آئی

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ