Nawaiwaqt:
2026-06-02@23:30:07 GMT
ہائیکورٹ میں وزیراعظم کے ججز سے متعلق نامناسب الفاظ پر توہین عدالت کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ججز سے متعلق نامناسب الفاظ کے استعمال کرنے پر توہین عدالت کی متفرق درخواست دائر کر دی گئی جبکہ درخواست گزار عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئیں عدالت نے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ جسٹس محمد وحید خان نے اشبا کامران کی متفرق درخواست پر سماعت کی، درخواست میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو فریق بنایا گیا جس میں کہا گیا شہباز شریف نے 28 مئی کو اپنی ایک تقریر میں عدلیہ کو کالی بھیڑیں قرار دیا، یہ بیان عدلیہ کی ایمانداری اور آزادی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔