پیٹرول کی قیمت میں اضافہ مسترد کرتے ہیں ،ضیا الدین انصاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے 39 پیسے تک کا اضافہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کا معاشی قتل کیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا غریب آدمی پہلے ہی دوقت کی روٹی کیلئے پریشان ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مہنگائی پہلے ہی اپنی بلند ترین سطح پر ہے، اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، زرعی لاگت، بجلی کی پیداوار، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور دیگر تمام شعبوں پر پڑے گا، جس سے مہنگائی کی ایک نئی اور شدید لہر اُبھرے گی۔حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط کی بجائے اپنے عوام کے مفادات کو ترجیح دے۔ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ یہ اضافہ صنعتوں، زراعت، اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو بھی شدید متاثر کرے گا، جس سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا اور ملک بھر میں غربت مزید پھیلے گی۔امیر لاہور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے کو واپس لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو عوامی احتجاج اور سڑکوں پر شدید ردِعمل کے لیے تیار رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔