خواجہ آصف نے وفاقی اور پنجاب حکومت میں پیپلزپارٹی کی شمولیت کا اشارہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی اور پنجاب حکومت میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کا اشارہ دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے ، یہ تو نہیں بتاسکتے لیکن امکان ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہوجائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت اچھی بات ہوگی ،البتہ پیپلز پارٹی سے حکومت کے رابطوں کی تفصیلات کا انہیں علم نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن قومی ایجنڈا پر مل کر کام کرسکتی ہیں۔
دورہ بنگلہ دیش، شاداب سمیت 3قومی کرکٹر فٹنس مسائل کا شکار ہو گئے
یاد رہے کہ اس سے قبل پیر کو سندھ کے سینیر وزیر شرجیل میمن نے کہا تھا کہ فی الحال وفاق سے پیپلز پارٹٰی کو کوئی پیش کش نہیں کی گئی ، وہ ایسی باتوں کی تردید کرتے ہیں ۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی حکومت میں
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔