الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر کسی فیصلے تک پہنچنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) منگل کو سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر کسی فیصلے تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ کمیشن کا اجلاس غیر نتیجہ خیز رہا کیونکہ قانونی ونگ اس کے لیے تیار نہیں تھا، انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف) اور دیگر افراد کی جانب سے اس معاملے پر دائر کی گئی کچھ درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں۔
اہلکار نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ فیصلے کی نقل نہ ملنے کی وجہ سے کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کر سکا، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کو فیصلے کی نقل یعنی آئینی بینچ کی جانب سے پی ٹی آئی کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے ایک دن بعد ہفتہ کو موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کمیشن بدھ (آج) دوبارہ اجلاس کرے گا اور امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر فیصلہ کر لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آئینی بینچ نے جمعہ کو 3-7 کی اکثریتی رائے سے 12 جولائی 2024 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔
اس فیصلے نے سپریم کورٹ کے 8 ججوں کے سابقہ اکثریتی فیصلے کو بھی کالعدم کر دیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کو خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستوں کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔
بینچ نے 25 مارچ 2024 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بحال کر دیا، جس میں سنی اتحاد کونسل، جس میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار شامل ہوئے تھے، کو مخصوص نشستوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔
اس آئینی فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی اب ایک پارلیمانی جماعت نہیں رہی، لہٰذا قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کی 77 سیٹیں ان پارلیمانی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی جو متعلقہ ایوانوں میں موجود ہیں، کیونکہ ان نشستوں کو خالی نہیں رکھا جا سکتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق قومی اسمبلی کی 22 مخصوص نشستوں کی تقسیم کچھ یوں ہو گی، مسلم لیگ (ن) کو 15، پیپلز پارٹی کو 4 اور جے یو آئی (ف) کو 3 نشستیں ملیں گی۔
اس عمل کے بعد حکومتی اتحاد قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گا، 336 ارکان پر مشتمل ایوان میں 2 تہائی اکثریت کے لیے 224 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
نااہلی کیس
علاوہ ازیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کے خلاف دائر نااہلی ریفرنس کی سماعت عدالت کے حکم پر روک دی ہے اور اسے 15 جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔
منگل کو الیکشن کمیشن کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس کی سربراہی سندھ سے رکن نثار احمد درانی کر رہے تھے۔
عمر ایوب کے وکلا نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع پیش کیا، الیکشن کمیشن کے خیبر پختونخوا سے رکن ریٹائرڈ جسٹس اکرام اللہ نے نشاندہی کی کہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں نئی سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی، بینچ نے کمیشن کی قانونی ٹیم کو ہائی کورٹ سے وضاحت لینے کی ہدایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس 90 دن کے اندر نمٹایا جانا لازم ہے۔
عمر ایوب کو اثاثہ جات ظاہر کرنے کے مقدمے میں بھی جواب داخل کرانے کی ہدایت کی گئی ہے جو کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی اور ریٹرننگ افسر کو دی گئی معلومات میں مبینہ تضادات کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا۔
یہ نااہلی ریفرنس سابق ایم این اے بابر نواز کی درخواست پر قومی اسمبلی کے اسپیکر نے بھیجا تھا، بابر نواز 2024 کے انتخابات میں این اے 18 (ہری پور) سے عمر ایوب کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں کی الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی جانب سے معاملے پر ہائی کورٹ پی ٹی آئی عمر ایوب کورٹ کے کر دیا کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔