WE News:
2026-06-02@23:47:41 GMT

خواجہ سرا بننے پر باپ کی بیٹے کو جان لیوا سزا

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

خواجہ سرا بننے پر باپ کی بیٹے کو جان لیوا سزا

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی راجا تنویر کالونی میں سگے باپ نے بیٹے کو قتل کردیا ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم نے بیلچے کے وار کرکے بیٹےکو قتل کیا، مقتول کی شناخت علی خان کے نام سے ہوئی ہے، لاش کوعباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ ملزم باپ عبدالغفار کو حراست میں کے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا

پوليس کے مطابق ملزم عبدالغفار نے اپنے بیٹے علی خان کو پہلے کرنٹ دیے جس سے وہ زخمی ہوا اس کے بعد گھر میں موجود بیلچے کے وار کر کے اپنے بیٹے کو قتل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: خواجہ سرا اور لڑکی کی شادی، اصل معاملہ کیا ہے؟

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے دوران ملزم نے بتایا کہ اس کا بیٹا خواجہ سرا بن چکا تھا اور ڈانس پارٹیوں میں شرکت کرتا تھا جب انہیں معلوم ہوا تو اسے بار بار سمجھاتا رہا، مگر اس نے ایک نا سنی وہ یہ کام کرتا رہا جس پر اس نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کو قتل کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news خواجہ سرا قتل کراچی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواجہ سرا قتل کراچی قتل کردیا خواجہ سرا بیٹے کو کو قتل

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟