اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سینٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اداروں کے بارے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا واضح اعلان نہ صرف ان اداروں بلکہ پوری قوم کے لیے اچھی خبر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ان اداروں کی کارکردگی اور دائرہ اثر بڑھانے کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کیلئے جلد ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے آج سینیٹر عرفان صدیقی کے چیمبر میں ان سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی نے سینیٹر عرفان صدیقی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے علمی و ادبی اداروں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے طبقے کے مطالبات وزیراعظم تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ علمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اس سلسلے میں وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی سے یقیناً بہت اچھے نتائج مرتب ہوں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس قومی مشن کیلئے انہیں سینیٹر عرفان صدیقی کی رہنمائی اور معاونت حاصل رہے گی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے وفاقی وزیر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی کو یقین دلایا کہ وہ علم و ادب کے فروغ اور معاشرے میں ہم آہنگی اور خیر سگالی کے جذبات پیدا کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کیلئے ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے اداروں کو اپنی اہمیت اور افادیت تسلیم کرانے کیلئے وقت کے نئے تقاضوں کے مطابق نئے منصوبوں کا اغاز کرنا ہوگا اور اپنی کارکردگی کو زیادہ بہتر بنانا ہوگا۔ سینٹر عرفان صدیقی نے دونوں رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ تمام اداروں کے سربراہان کے تقرر کے لیے اقدامات کریں تاکہ ان کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ ملاقات میں وزارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے وفاقی سیکرٹری اسد الرحمن گیلانی بھی موجود تھے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی عرفان صدیقی نے انہوں نے

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم