کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز پاکستان لمیٹڈ اور انٹرنیشنل برانڈز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممنوعہ معاہدہ اور اس پر عملدرآمد کرنے پر مجموعی طور پر 4 کروڑ 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
کمیشن نے اپنے تفصیلی فیصلے میں دونوں کمپنیوں کو ممنوعہ معاہدے کرنے پر قصوروار قرار دیا۔ اس معاہدے کے تحت یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز کو تین سال تک پاکستان میں انسانی استعمال کی فارماسیوٹیکل مصنوعات کی ڈسٹری بیوشن کی مارکیٹ میں داخلے سے روکا گیا۔ اس کے بدلے میں انٹرنیشنل برانڈز نے یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز کو کو ایک ارب 13 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بطور معاوضہ ادا کی۔ یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز نے کمپٹیشن کمیشن کی منظوری کے بغیر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس معاہدے کا اعلان بھی کیا ۔
کمپٹیشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مذکورہ معاہدہ قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، اس معاہدے کے ذریعے غیرقانونی مارکیٹ شیئرنگ کا بندوبست کیا گیا جس سے مارکیٹ میں منصفانہ مقابلے کی فضا کو نقصان پہنچا۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کا طرز عمل مارکیٹ میں کمپٹیشن کو کمزور کرتا ہے اور صارفین کے مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس معاہدے میں ایک ایسی شق بھی شامل تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کمپٹیشن کمیشن سے ریگولیٹری استثنیٰ کی درخواست کی جائے گی، تاہم فریقین کی جانب سے جون 2024 میں شوکاز نوٹس جاری ہونے تک ایسی کوئی بھی درخواست کمیشن کو جمع نہیں کرائی گئی۔ کمیشن نے قرار دیا ہے کہ مذکورہ شق قانون کی خلاف ورزی سے بچے رہنے کے لیے ناکافی ہے۔
کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز اور انٹرنیشنل برانڈز پر دو، دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ جبکہ ریگولیٹری کلیئرنس کے بغیر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں معاہدے کا اعلان کرنے پر یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز کو 10 لاکھ روپے اضافی جرمانہ کیا گیا ہے۔
کمیشن کے فیصلے میں کمپنیوں کو تیس دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ مزید برآں، کمیشن نے مزید ریگولیٹری و قانونی کارروائی کے لیے اس معاملے کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی بھجوا دیا ہے۔

اشتہار

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن خلاف ورزی اس معاہدے

پڑھیں:

ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے ڈیٹا بیس کے ہیک ہونے اور ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دےدیا . ترجمان ایچ ای سی کے مطابق سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل دعوؤں کی فوری تحقیقات مکمل کر لی ہیں، جن سے ثابت ہوا ہے کہ آن لائن گردش کرنے والا مبینہ ڈیٹا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن یا ویریفکیشن سسٹم کا حصہ نہیں ہے۔ ترجمان ایچ ای سی نے ایچ ای سی ڈیٹا بیس ہیک ہونے کی سوشل میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مزیدکہاکہ سوشل میڈیا پر وائرل ریکارڈز کا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈیٹابیس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عوام سے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق جھوٹی افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ایچ ای سی کا ڈیٹابیس اور ڈگری ویریفکیشن سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم