’پیپلزپارٹی 100 سال بھی حکومت کرلے تو کراچی کو کچھ نہیں دے گی‘
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کراچی میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 100 سال بھی حکومت کرلے تو وہ کراچی کو کچھ نہیں دے گی۔
یہ دعویٰ اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے صفورہ ٹاؤن کی نا اہلی، کرپشن و جعلی بھرتیوں کے حوالے سے مدراس چوک اسکیم 33 میں عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بہت جلد بڑی تحریک شروع کرے گی،اگر عوام کے حقوق نہیں دیے گیے تو یہ ہماری تحریک حکومت ہٹانے کی تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بجٹ میں ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو ایک روپیہ بھی ترقیاتی فنڈز نہیں دیا جبکہ کے ایم سی کو جو 9 ارب روپے کا بجٹ ملا وہ کہیں خرچ ہوتا نظر نہیں آرہاْ
انہوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلزپارٹی کی 17 سال سے حکومت ہے اور انہوں نے شہر کے لیے کچھ نہیں کیا، اگر 100 سال بھی حکومت ملے تو کراچی کو پیپلزپارٹی کچھ نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم صفورہ ٹاؤن میں پیپلز پارٹی کی سیاسی، انتخابی و مالی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اس سے قبل گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے خلاف چنیسر ٹاؤن میں بھی احتجاج کیا تھا۔صفورہ ٹاؤن کا بجٹ دھاندلی اور کرپشن کا بجٹ ہے۔ 1.
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ وہ پیسے جو عوام اور ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے چاہیے وہ کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بہت جلد بڑی تحریک شروع کرے گی،اگر عوام کے حقوق نہیں دیے گیے تو یہ ہماری تحریک حکومت ہٹانے کی تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے اپیل کی کہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کا دست و بازو بنیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کے ہاتھ مضبوط کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی کے کچھ نہیں انہوں نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ