’پیپلزپارٹی 100 سال بھی حکومت کرلے تو کراچی کو کچھ نہیں دے گی‘
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 100 سال بھی حکومت کرلے تو وہ کراچی کو کچھ نہیں دے گی۔
یہ دعویٰ اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے صفورہ ٹاؤن کی نا اہلی، کرپشن و جعلی بھرتیوں کے حوالے سے مدراس چوک اسکیم 33 میں عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بہت جلد بڑی تحریک شروع کرے گی،اگر عوام کے حقوق نہیں دیے گیے تو یہ ہماری تحریک حکومت ہٹانے کی تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بجٹ میں ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو ایک روپیہ بھی ترقیاتی فنڈز نہیں دیا جبکہ کے ایم سی کو جو 9 ارب روپے کا بجٹ ملا وہ کہیں خرچ ہوتا نظر نہیں آرہاْ
انہوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلزپارٹی کی 17 سال سے حکومت ہے اور انہوں نے شہر کے لیے کچھ نہیں کیا، اگر 100 سال بھی حکومت ملے تو کراچی کو پیپلزپارٹی کچھ نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم صفورہ ٹاؤن میں پیپلز پارٹی کی سیاسی، انتخابی و مالی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اس سے قبل گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے خلاف چنیسر ٹاؤن میں بھی احتجاج کیا تھا۔صفورہ ٹاؤن کا بجٹ دھاندلی اور کرپشن کا بجٹ ہے۔ 1.
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ وہ پیسے جو عوام اور ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے چاہیے وہ کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بہت جلد بڑی تحریک شروع کرے گی،اگر عوام کے حقوق نہیں دیے گیے تو یہ ہماری تحریک حکومت ہٹانے کی تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے اپیل کی کہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کا دست و بازو بنیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کے ہاتھ مضبوط کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی کے کچھ نہیں انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔