وزیراعظم آج آذربائیجان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلا م آباد(صباح نیوز)وزیراعظم شہباز شریف آج جمعرات کو آذر بائیجان کے دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق
وزیراعظم شہباز شریف 3 جولائی کو آذر بائیجان کے دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔سربراہی اجلاس آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 3 تا 4 جولائی منعقد ہوگا جس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ای سی او کے اس سربراہی اجلاس کا موضوع پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے مستقبل کیلئے ای سی او کا نیا وژن ہے۔سربراہی اجلاس کے دوران وزیرِاعظم علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش اہم چیلنجز کے بارے میں پاکستان کا نقط نظر پیش کریں گے،اور ای سی او وژن 2025 سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کریں گے۔وزیراعظم علاقائی تجارت، ٹرانسپورٹ رابطہ کاری، توانائی کے شعبے میں تعاون اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی وکالت بھی کریں گے۔وزیرِاعظم اجلاس کے موقع پر ای سی او کے دیگر رہنماوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سربراہی اجلاس کریں گے
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔