ٹرمپ کا امریکی مرکزی بینک کے سربراہ جیروم پاول سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے فیڈرل ریزرو بینک کے چیئرمین جیروم پاول سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا: "اب بہت ہو چکا، جیروم پاول کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے!"
پاول کو ٹرمپ نے خود 2018 میں چیئرمین نامزد کیا تھا، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے وہ شرح سود میں کمی نہ کرنے پر صدر کی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
پاول نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر ٹرمپ کی ٹیرف (درآمدی محصولات) پالیسیوں کا معیشت پر اثر نہ ہوتا تو فیڈ پہلے ہی سود کی شرح کم کر چکا ہوتا۔
ٹرمپ چاہتے ہیں کہ معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے شرح سود میں کمی کی جائے، لیکن پاول کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ صرف معاشی حالات دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 1935 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیڈ جیسی آزاد ایجنسیوں کے سربراہان کو مدت مکمل ہونے سے پہلے بغیر جواز کے برطرف نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ٹرمپ ایسے کئی اصولوں کو ماضی میں چیلنج کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔