معمولی سی چوری پر بڑی کارروائی؛ ریاستی مدعیت میں مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
راولپنڈی:
معمولی چوری پر ریاستی مدعیت میں مقدمہ قائم کرنے کا انوکھا واقعہ سامنے آ گیا۔
واقعے کے مطابق نسوار کی چوری کا ایک دلچسپ اور انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں محض 300 روپے مالیت کی 10 نسواریں چوری ہونے پر ریاست نے خود مدعی بنتے ہوئے مقدمہ درج کرا دیا۔
پولیس کے مطابق یہ مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ ریس کورس میں درج کیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ایک شہری نے ون فائیو پر کال کر کے دی، جس پر پولیس فوری طور پر متحرک ہوئی اور موقع پر پہنچ کر ابتدائی معلومات حاصل کیں۔ شہری کے مطابق نامعلوم شخص نے 300 روپے مالیت کی نسوار چرا لی۔ پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ریاست کی مدعیت میں چوری کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ راولپنڈی میں اتنی معمولی مالیت کی چوری پر ریاست خود مدعی بنی ہو، جس پر عوامی حلقوں میں حیرت اور دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، خواہ مالیت کم ہو یا زیادہ، جرم جرم ہوتا ہے اور کارروائی ضروری۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔