قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین پولین بلوچ نے وزارت کی طرف سے درست اعداد و شمار نہ دئیے جانے اور کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ہم ایٹمی مواد کے بارے میں نہیں پوچھ رہے ہیں۔

پولین بلوچ کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا، اراکین نے سرکاری ٹیلی ویژن کے ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ اٹھا دیا۔

رکن کمیٹی سحر کامران  نے کہا کہ وزارت کی طرف سے درست اعدادوشمار نہ دئیے جانے اور کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔

چئیرمین کمیٹی نے کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کردیا، چیئرمین کمیٹی  نے کہا کہ ہم وزارت کے رویے کی وجہ سے اجلاس جاری نہیں رکھ سکتے،  کمیٹی کابریف رات ساڑھے گیارہ بجے دیا گیا ہم ابھی نہیں پڑھ سکتے۔

پولین بلوچ نے کہا کہ  مجھے اسپیکر اور وزیراعظم کے پاس جانا پڑا وہاں بھی جاؤں گا، 

رکن کمیٹی امین الحق نے کہا کہ اس رویے کے زمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
اس موقع پر چیئرمین کمیٹی پولین بلوچ نے اجلاس ختم کر دیا۔

بعد ازاں چیئرمین قائمہ کمیٹی پولین بلوچ نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو بلند کرنا چاہتے ہیں، اسپیکر سے مشورہ کریں گے، وزیر اعظم سے بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایٹمی مواد کے بارے میں نہیں پوچھ رہے، ہم پی ٹی وی، ریڈیو کی تنخواہوں پہ بات کرنا چاہ رہے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولین بلوچ نے قائمہ کمیٹی نے کہا کہ

پڑھیں:

سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش

وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد