علی امین گنڈاپور سے عوام کو نجات تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ملے گی، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا ہے تاہم اس سے اب عدم اعتماد کی تحریک لاکر جلد نجات مل جائے گی جس کے لیے اپوزیشن متحرک ہوچکی ہے۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی سیاسی صورت حال، سوات واقعے اور خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک پر تفصیلی بات چیت کی۔
’نمبر پورے ہوتے ہی تحریک عدم اعتماد لائیں گے‘انہوں نے کہا کہ صوبے میں اپوزیشن سرگرم ہے اور جیسے ہی مطلوبہ اراکین کی حمایت حاصل ہوئی عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال، مخصوص نشستوں کی اپوزیشن کو منتقلی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی نئی پارلیمانی طاقت پر بھی گفتگو ہوئی۔
’پی ٹی آئی اپنی ہی حکومت سے ناخوش ہے‘فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت انتشار اور بدانتظامی کا شکار ہے اور پارٹی خود اپنے خلاف سازشوں میں ملوث ہے۔ ان کے بقول اگر بجٹ بھی خود پاس نہیں کروا سکتے تو پھر الزام کس کو دیں گے؟
گورنر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور ارکان اپنی حکومت کے دفاع میں ناکام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوات واقعہ، کوہستان اسکینڈل، چینی و گندم بحران، اسپتالوں سے ادویات کی چوری اور بلین ٹری منصوبے کی ناکامی نے پی ٹی آئی کی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
علی امین گنڈاپور کے اس بیان پر کہ اگر ان کی حکومت گئی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے، کنڈی نے تنقید کرتے ہوئے کہا اگر اتنا اعتماد ہے تو پھر میدان سے بھاگنے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یہی وہ لوگ ہیں جو قومی اسمبلی میں بھی ایسی ہی باتیں کرتے رہے مگر آخر کار انہیں شکست تسلیم کرنی پڑی۔
’صوبے کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا گیا ہے‘جنوبی اضلاع میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر گورنر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا وزیراعلیٰ نے اپنے ہی ضلعے کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور حکومت کا فوکس کمیشن، نوکریوں کی فروخت اور مالی بدعنوانیوں پر ہے نہ کہ صوبے کے عوام پر۔
یاد رہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کا تعلق بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔
’سوات واقعے پر پارلیمانی کمیشن تحقیقات کرے‘سوات میں حالیہ سیلابی واقعے کو گورنر نے مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کی براہ راست ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ سیاحت کا محکمہ بھی انہی کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر وزیراعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے انکوائری کمیٹی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کبھی بھی اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف رپورٹ نہیں دے سکتے اس لیے ایک غیر جانبدار پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کے اراکین شامل ہوں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوات میں تعینات ریسکیو عملہ رشوت دے کر بھرتی کیا گیا جنہیں نہ غوطہ خوری آتی ہے اور نہ ہی بروقت رسپانس دینے کی تربیت حاصل ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 3 گھنٹے تک لوگ مدد کے لیے چیختے رہے لیکن کوئی حکومتی امداد نہ پہنچی اور نہ ہی کوئی ایمبولینس یا ہیلی کاپٹر جائے وقوعہ پر آیا۔
’عوام کو حکومت سے نجات دلانے کا وقت آ گیا‘انٹرویو کے اختتام پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور عوام کو اس حکومت سے نجات دلانے کا واحد راستہ عدم اعتماد کی تحریک ہے جو جلد سامنے آ سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک عدم اعتماد ڈی آئی خان سانحہ سوات سوات گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد ڈی ا ئی خان سانحہ سوات سوات گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدم اعتماد کی تحریک فیصل کریم کنڈی نے تحریک عدم اعتماد خیبر پختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے کے خلاف ہے اور
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔