لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہوں تو عدم اعتماد لاتی ہے ، ماضی میں ہم نے ایک وزیراعظم کو عد م اعتماد پر گھر بھیجا ہے ۔

گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ   52سے 54 اپوزیشن ممبران کے پی اسمبلی میں ہیں، عدم اعتماد کے لیے 25 سے 30 نمبر مزید چاہیے ہوں  گے، ایک نمبر بھی زیادہ ہو گاتو جمہوری حق ہے کہ عدم اعتماد لائیں، جب نمبر پورا ہو گا تو عدم اعتماد کی تحریک بھی لیکرآئیں گے۔

پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب، 19 ارب روپے کے دانش سکول منصوبے منظور

فیصل کریم کنڈی کا کہناتھا کہ  ہم نے اس حوالے سے کوئی ڈائیلاگ  نہیں مارے، پی ٹی آئی کی حکومت گر گئی تو فائدہ تو بہت ہو گا، لوگوں کے کیلئے یوم نجات ہو گا، کے پی میں کرپشن دیکھی،گندم،چینی کا اسکنڈل سامنےآیا، ابھی عدم اعتماد کے حوالے سے ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے، پی ٹی آئی والوں کو سیاسی دشمنوں کی ضرورت نہیں ،یہ خود ہی دشمن ہیں، یہ خود ہی ایک دوسرے کیلئے کافی ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ کہا گیا ملاقات کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہو گا، اگلے دن کہہ دیا میرے خلاف سازش ہو رہی ہے، اگر بجٹ پاس نہ ہوتا تو صوبے میں معاشی ایمرجنسی لگتی ، وزیراعلیٰ ڈائیلاگ مار لیتے ہیں مگر کر نہیں سکتے،  ان کو پشاور سے اسلام آباد آتے ہوئے تو 5 سے 6 دن  لگتے ہیں، لیکن 5 سے 6 گھنٹے میں واپسی کاراستہ دکھا دیا جاتا ہے،  ان کو کون تنگ کر رہاہے،ہم توان کونہیں ہٹا رہے، کیاعدم اعتماد کے حوالے سے بات کرنا بھی گناہ ہے؟ علیمہ خان کہہ رہی ہیں،مائنس ون ہو چکا ہے،یہ تو بہت پہلے ہوا تھا، پشاور میں  2017 سے ایک اسٹیڈیم ابھی تک بن رہاہے،بس نام تبدیل کیاگیا۔

کراچی: بی آر ٹی اور پیپلز بس سروس جزوی معطل، ترجمان

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا