عمران خان اپنے ہی لوگوں کی سیاست کے باعث جیل میں ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کراچی:
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے ہی لوگوں کی سیاست کے باعث جیل میں ہیں۔
وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ نے علمائے کرام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جلوسوں کے لیے سندھ بھر میں 49 ہزار سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی دیں گے۔ امن و امان قائم رکھنے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائیں جائیں گے۔چنگ چی رکشہ ایسوسی ایشن نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔حکومت سندھ نے قانون کے تحت 11 شاہراہوں پر چنگ چی رکشہ پر پابندی لگائی تھی۔انتظامی معاملات چلانا سندھ حکومت کی ذمے داری ہے۔ چنگ چی رکشوں کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل سامنے آرہے تھے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم نے 93 ہزار 118 اساتذہ کو بھرتی کیا ہے۔ بھرتی کا عمل شفاف تھا، ایک بھی بھرتی سفارش پر نہیں ہوئی۔ لاکھوں روزگار دینے والوں نے صرف نعرے لگائے اور عمل پیپلز پارٹی نے کیا۔ 93 ہزار خاندانوں کو روزگار بھی ملا ہے۔ 5 ہزار بند اسکول دوبارہ کھل چکے ہیں جب کہ 55 لاکھ بچے سرکاری اسکولوں اور 40 لاکھ بچے نجی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ پہلے 55 بچوں پر ایک ٹیچر کا ریشو تھا، اب 35 بچوں کے لیے ایک استاد میسر ہوگا۔ اساتذہ کی قلت اب ختم ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بہترین طبی اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کررہی ہے۔ روزگار کی فراہمی میں بھی سندھ حکومت سب سے آگے ہے۔ 2100 افراد اقلیتوں کے کوٹے پر بھرتی ہوئے، 1330 خصوصی افراد کو بھی بھرتی کیا گیا۔ سوشل سیکٹر اور انفرااسٹرکچر کی بہتری میں بھی سندھ حکومت آگے ہے۔
شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ جنہوں نے ملک و قوم کے لیے کچھ نہیں کیا، وہی الزامات کی سیاست کررہے ہیں۔ ایک سابق وفاقی وزیر جو کئی پارٹیوں میں رہ چکے ہیں وہ سیلاب کے وقت کے اعداد و شمار دے رہے ہیں۔ سیلاب کے بعد اسکولوں کی حالت بہتر کرنے میں وفاقی حکومت سے وہ مدد نہیں ملی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
کراچی میں ٹاؤنز سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ٹاؤن کی الگ الگ کہانی ہے، ، ہر ٹاؤن نے غلط کام نہیں کیا۔ کچھ ٹاؤنز نے پیسے آتے ہی روڈ بنانے کا کام بروقت کرلیا مگر کچھ ایسا نہیں کر سکے۔ جہاں جہاں جس کی غلطی ہے اس پر احتساب ہونا چاہیے سیاست نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے تحت پارکنگ فیس ختم کردی گئی ہے۔ مزید کوئی چارجڈ پارکنگ نہیں ہوگی۔
سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا کام صرف منفی سیاست اور تنقید ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ فتنے والی سیاست کی ہے۔ ایم کیو ایم کو بہت درد ہے تو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے لیتے۔ ہم بانی پی ٹی آئی کی طرح کسی کو گالی نہیں دیں گے۔علی امین گنڈا پور کو اپوزیشن کی ضرورت نہیں ہے، پی ٹی آئی کو کسی اور سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بانی پی ٹی آئی اپنے ہی لوگوں کی سیاست کی وجہ سے جیل میں ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ خیبرپختونخوا امن و امان کی بدترین صورتحال سے گزر رہا ہے اور وہ اسے بہتر کرنے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کرتے ہیں۔ احتجاج کا سب کو حق ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سڑکیں بند کردی جائیں۔ ریڈ زون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سندھ حکومت کی سیاست انہوں نے نے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔