data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں آٹھ محرم الحرام کا مرکزی جلوس آج نشتر پارک سے برآمد ہوگا، سیکیورٹی کے پیش نظر جلوس کے راستوں پر کنٹینرز رکھ کر ٹریفک کی آمد و رفت بند کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں 8 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے پیش نظر پولیس نے جلوس کی گزرگاہوں میں آنے والی مارکیٹس اور دکانوں کو مکمل سرچنگ کے بعد سیل کر دیا ہے جبکہ جلوس کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق جلوس کی گزرگاہوں پر آنے والے ذیلی راستے کنٹینرز اور بھاری گاڑیاں کھڑی کر کے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی غیر متعلقہ فرد کی آمد و رفت روکی جا سکے۔

ان بند راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جنہیں ہدایت دی گئی ہے کہ ان راستوں سے نہ تو کوئی جلوس میں شامل ہو سکے گا اور نہ ہی جلوس میں سے کسی کو ان راستوں سے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

آخری اطلاعات تک پولیس کی جانب سے نمائش چورنگی سے ایم اے جناح روڈ اور کھارادر تک جلوس کے راستے، دکانیں اور مارکیٹیں سرچنگ کے بعد مرحلہ وار سیل کرنے کا عمل جاری تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد جلوس کے شرکاء کی حفاظت اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جلوس کے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا