کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستانی محکمہ موسمیات نے کراچی کے شہریوں کے لیے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جولائی کے بعد شہر میں مون سون کی نوعیت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے متوقع ہے کہ تیز اور موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

مون سون کا آغاز
ملک میں مون سون کی ابتدائی بارشیں 26 جون کے بعد سامنے آئیں، جنہوں نے 30–35 فیصد زائد بارش کی شرح کو جنم دیا — اس ماہ اوسطاً 24.

30 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

درجہ حرارت میں اضافہ
جون کے دوران ملک کا اوسط درجہ حرارت 32.45 °C رہا، جو اختتامی سومیا (normal) سے 0.47 °C زائد تھا۔ روزانہ کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 49.09 °C رہا، جب کہ رات کا اوسط 25.7 °C رہا، جو معمول سے 1.09 °C زیادہ تھا۔

گرم ترین دن کی نشاندہی
13 جون کو جیکب آباد میں درجہ حرارت 50.5 °C تک پہنچ گیا، جو اس ماہ کا سب سے گرم دن تھا۔

کیا مستقبل میں موسمی تبدیلیاں متوقع ہیں؟
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ مون سون کا آغاز معمول سے تھوڑا سست رہا، مگر جون میں بارشیں اور گرمی دونوں زیادہ رہی ہیں۔
توقع ہے کہ جولائی میں پاکستان میں متعدد شدید برساتی اسپیل (بارشوں کے دورانیے) آئیں گے، اور کراچی میں پندرہ جولائی کے بعد خصوصاً تیز بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھیں، پبلک سروسز اور ڈرینیج سسٹمز کی جانچ کریں، اور ضروری احتیاطی اقدامات اپنائیں۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان یوتھ ایمپاورمنٹ اینڈ انگیجمنٹ انیشیٹو کی اسناد تقسیم کی تقریب

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟